Category: اہم خبریں

latest news

  • فورٹ عباس کی سیون آر کینال میں 50 فٹ چوڑا شگاف، کئی ایکڑ کپاس زیرِ آب

    فورٹ عباس کی سیون آر کینال میں 50 فٹ چوڑا شگاف، کئی ایکڑ کپاس زیرِ آب

    فورٹ عباس (نمائندہ خصوصی): فورٹ عباس کے سیون آر کینال میں تقریباً 50 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے کئی ایکڑ پر کھڑی کپاس کی فصل زیرِ آب آگئی۔ شگاف کے باعث نہری پانی تیزی سے زرعی اراضی میں داخل ہوگیا، جس سے کاشتکاروں کو فصلوں کے نقصان کا خدشہ ہے۔

    مقامی افراد کے مطابق شگاف پڑنے کے بعد محکمہ انہار کا عملہ فوری طور پر موقع پر موجود نہیں تھا، جس کے باعث پانی کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ متاثرہ کاشتکاروں نے متعلقہ حکام سے فوری طور پر شگاف پر کرنے اور پانی کا بہاؤ روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

    کاشتکاروں نے کہا ہے کہ بروقت کارروائی نہ کی گئی تو مزید زرعی رقبہ زیرِ آب آنے اور کپاس کی فصل کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

  • فورٹ عباس میں گھریلو تنازع پر دو گروپوں میں جھگڑا، خاتون سمیت دو افراد زخمی

    فورٹ عباس میں گھریلو تنازع پر دو گروپوں میں جھگڑا، خاتون سمیت دو افراد زخمی

    فورٹ عباس: فورٹ عباس کے نواحی علاقے چک 230/9-R میں گھریلو تنازع پر رشتہ داروں کے دو گروپوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے میں خاتون سمیت دو افراد چاقو کے وار سے زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق زخمیوں میں 25 سالہ محمد عبداللہ ولد شوکت علی شامل ہیں، جنہیں سینے کے بائیں جانب اور دائیں بازو پر چاقو کے زخم آئے، جبکہ 39 سالہ زبیدہ کوثر زوجہ شوکت علی کی دائیں ٹانگ کے گھٹنے کے اوپری حصے پر چاقو کا زخم لگا۔

    اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی، جس نے زخمیوں کو فوری ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ بعد ازاں دونوں زخمیوں کو مزید علاج کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر (THQ) ہسپتال فورٹ عباس منتقل کر دیا گیا۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق جھگڑا گھریلو تنازع کے باعث پیش آیا، تاہم واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • فورٹ عباس بار ایسوسی ایشن کا اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کا اعلان، ہفتہ کو ریلی اور عدالتی بائیکاٹ ہوگا

    فورٹ عباس بار ایسوسی ایشن کا اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کا اعلان، ہفتہ کو ریلی اور عدالتی بائیکاٹ ہوگا

    فورٹ عباس: فورٹ عباس بار ایسوسی ایشن نے اسسٹنٹ کمشنر فورٹ عباس کے خلاف احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے ہفتہ کے روز احتجاجی ریلی نکالنے اور مکمل عدالتی بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بار ایسوسی ایشن فورٹ عباس کے صدر شاہد بشیر چیمہ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر فورٹ عباس کے رویے اور مبینہ طرزِ عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متفقہ طور پر احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ہفتہ کے روز وکلاء عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے اور احتجاجی ریلی بھی نکالی جائے گی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر کے مبینہ رویے کے خلاف وکلاء متحد ہیں اور اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

    بار ایسوسی ایشن نے اپنے ارکان سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاجی ریلی اور عدالتی بائیکاٹ میں بھرپور شرکت کریں تاکہ وکلاء برادری کے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ بھی حالات اور متعلقہ حکام کے رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا، جبکہ بار ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ وکلاء کے وقار اور پیشہ ورانہ احترام کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

  • فورٹ عباس: غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف کارروائی، انتباہی بینرز آویزاں، ریونیو لین دین بلاک

    فورٹ عباس: غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف کارروائی، انتباہی بینرز آویزاں، ریونیو لین دین بلاک

    فورٹ عباس: ڈپٹی کمشنر بہاولنگر سید محمد عباس شاہ کی ہدایت پر فورٹ عباس میں میونسپل کمیٹی کی حدود میں قائم تمام غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ان سکیموں پر انتباہی بینرز آویزاں کر دیے گئے ہیں، جبکہ ان سے متعلق تمام ریونیو لین دین بھی بلاک کر دیا گیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات شہریوں کو غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں میں سرمایہ کاری سے محفوظ رکھنے اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور کسی کو بھی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ضلعی انتظامیہ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ کسی بھی ہاؤسنگ سکیم میں سرمایہ کاری یا پلاٹ کی خریداری سے قبل متعلقہ اداروں سے اس کی قانونی حیثیت کی تصدیق ضرور کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

  • منچن آباد میں فوڈ اتھارٹی کا بڑا ایکشن، قصاب کے گھر سے کئی من مردار گوشت برآمد

    منچن آباد میں فوڈ اتھارٹی کا بڑا ایکشن، قصاب کے گھر سے کئی من مردار گوشت برآمد

    منچن آباد: منچن آباد کے علاقے درزیاں والا کھوہ میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کارروائی کرتے ہوئے ایک قصاب کے گھر پر چھاپہ مار کر مبینہ طور پر کئی من مردار گوشت برآمد کر لیا۔ذرائع کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کی، جہاں بڑی مقدار میں غیر معیاری اور مبینہ مردار گوشت قبضے میں لے لیا گیا۔ برآمد ہونے والے گوشت کو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر قرار دیتے ہوئے موقع پر تلف کرنے کے اقدامات کیے گئے۔

    پنجاب فوڈ اتھارٹی حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مردار گوشت کہاں سپلائی کیا جا رہا تھا اور اس مکروہ کاروبار میں مزید کون کون ملوث ہے۔ ذمہ دار افراد کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔علاقہ مکینوں نے فوڈ اتھارٹی کی کارروائی کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

  • میونسپل کمیٹی کی مبینہ غفلت، سیوریج لائن میں زہریلی گیس سے دو سیور مین جاں بحق، دو کی حالت غیر

    میونسپل کمیٹی کی مبینہ غفلت، سیوریج لائن میں زہریلی گیس سے دو سیور مین جاں بحق، دو کی حالت غیر

    چشتیاں(عامر سہیل سے) میونسپل کمیٹی چشتیاں کی مبینہ غفلت اور حفاظتی اقدامات کے فقدان کے باعث بھٹہ کالونی چوک میں سیوریج لائن کی صفائی کے دوران پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے باعث دو سیور مین جاں بحق جبکہ دو دیگر متاثر ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق صفائی کے دوران پہلے دو مزدور مین ہول میں اترے، جہاں موجود زہریلی گیس کے باعث وہ بے ہوش ہو گئے۔ انہیں بچانے کے لیے مزید دو افراد بھی مین ہول میں اترے، تاہم وہ بھی گیس سے متاثر ہو گئے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور امدادی کارروائی کرتے ہوئے چاروں افراد کو باہر نکالا۔

    حادثے میں 27 سالہ عرفان مسیح ولد اقبال اور 45 سالہ شفیق مسیح ولد رفیق جان کی بازی ہار گئے، جبکہ شمعون مسیح ولد یونس مسیح کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا۔ منیر ولد جیت مسیح کی حالت تشویشناک ہونے پر اسے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال چشتیاں منتقل کر دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق جاں بحق عرفان مسیح اپنے پیچھے تین بیٹے اور دو بیٹیاں جبکہ شفیق مسیح دو بیٹیوں، ایک بیٹے اور اہلیہ کو سوگوار چھوڑ گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہوگئی اور شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔

    مقامی افراد اور سماجی حلقوں نے الزام عائد کیا کہ سیوریج لائنوں کی صفائی کے لیے مختص بجٹ اور حکومتی دعوؤں کے باوجود عملے کو بنیادی حفاظتی سامان، گیس ڈیٹیکٹرز، حفاظتی کٹس اور جدید مشینری فراہم نہیں کی جاتی، جس کے باعث مزدور اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر کام کرنے پر مجبور ہیں۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار افسران کا تعین کیا جائے، غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور آئندہ ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے سیوریج عملے کو جدید حفاظتی آلات اور تربیت فراہم کی جائے۔

  • الیکٹرک گاڑیوں کا بڑھتا رجحان: پاکستان میں ای وی چارجنگ اسٹیشنز سرمایہ کاری کا نیا مرکز بن گئے

    الیکٹرک گاڑیوں کا بڑھتا رجحان: پاکستان میں ای وی چارجنگ اسٹیشنز سرمایہ کاری کا نیا مرکز بن گئے

    کراچی: پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ای وی چارجنگ اسٹیشنز کے شعبے کو تیزی سے ابھرتا ہوا کاروباری موقع بنا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جس طرح ماضی میں سی این جی سیکٹر میں ابتدائی سرمایہ کاری کرنے والوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی، اسی طرح الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ انفراسٹرکچر آئندہ برسوں میں ایک اہم کاروباری شعبہ بن سکتا ہے۔

    مارکیٹ ذرائع کے مطابق پاکستان میں ہر ماہ تقریباً 300 نئی الیکٹرک گاڑیاں فروخت ہو رہی ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کے باعث ملک بھر میں جدید چارجنگ اسٹیشنز کی ضرورت میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں، موٹرویز اور شمالی سیاحتی علاقوں میں چارجنگ اسٹیشنز کا نیٹ ورک توسیع پا رہا ہے، تاہم موجودہ طلب کے مقابلے میں مارکیٹ میں اب بھی وسیع گنجائش موجود ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش موقع فراہم کرتی ہے۔

    حکومتِ پاکستان بھی الیکٹرک وہیکل پالیسی کے تحت ملک میں ای وی انفراسٹرکچر کے فروغ پر توجہ دے رہی ہے۔ سرکاری اہداف کے مطابق سال 2030 تک ملک بھر میں تقریباً 10 ہزار ای وی چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ سندھ حکومت نے بھی صوبے میں 650 ای وی چارجنگ اسٹیشنز نصب کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

    کاروباری ماہرین کے مطابق ای وی چارجنگ اسٹیشنز میں سرمایہ کاری کے لیے مختلف مالیاتی ماڈلز دستیاب ہیں۔ سرمایہ کار اپنی ضرورت کے مطابق کیش پر خریداری، لیزنگ یا ریونیو شیئرنگ جیسے ماڈلز اختیار کر سکتے ہیں۔ بعض کمپنیوں کی جانب سے مناسب کمرشل لوکیشن رکھنے والے افراد کے لیے خود چارجنگ اسٹیشن نصب کرکے باہمی شرائط کے تحت کاروباری شراکت داری کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی سرمایہ کار کے پاس موزوں کمرشل مقام موجود ہے یا وہ مستقبل کے لیے پائیدار کاروباری مواقع کی تلاش میں ہے تو ای وی چارجنگ انفراسٹرکچر ایک قابلِ غور سرمایہ کاری ثابت ہو سکتا ہے۔

    Source: https://EvCharger.pk

  • تھانہ بخشن خاں پولیس بے بس، چور بیوہ خاتون کے 54 لاکھ کے زیورات لے اُڑے

    چشتیاں: نواحی چک 11 فورڈ واہ میں چار نامعلوم چوروں نے ایک بیوہ خاتون کے گھر میں ڈکیتی کی واردات کو انجام دیتے ہوئے 54 لاکھ روپے مالیت کے طلائی زیورات اور 5 لاکھ 60 ہزار روپے نقدی چوری کر لی۔ تھانہ بخشن خاں پولیس کی ناقص کارکردگی اور بروقت کارروائی نہ کرنے پر شہریوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    متاثرہ خاتون سلمی بی بی بیوہ طارق عزیز کے مطابق وہ علی الصبح فجر کی نماز پڑھنے کے لیے اٹھی تو دیکھا کہ رہائشی کمرے کا سامان بکھرا ہوا تھا اور دو سیف الماریوں کے تالے ٹوٹے ہوئے تھے۔ چور 12 تولہ سونا اور نقدی لے کر فرار ہو گئے۔

    تھانہ بخشن خاں پولیس نے نامعلوم چوروں کے خلاف دفعات 380 کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع تو کر دی ہے لیکن اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔ پولیس کی سست رفتار کارروائی نے شہریوں کو مزید پریشان کر دیا ہے۔

    چک 11 فورڈ واہ کے معززین نے ڈی ایس پی چشتیاں اور ڈی پی او بہاولنگر سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اگر تھانہ بخشن خاں پولیس نے بروقت کارروائی کی ہوتی تو چوروں کے حوصلے بلند نہ ہوتے۔

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے بھی اپیل کی ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور متاثرہ خاتون کو انصاف دلایا جائے۔

  • چولستان میں تالاب خشک، پانی کی شدید قلت کے باعث مکینوں کی موسمی نقل مکانی شروع

    چولستان میں تالاب خشک، پانی کی شدید قلت کے باعث مکینوں کی موسمی نقل مکانی شروع

    چولستان میں تالاب خشک، پانی کی شدید قلت کے باعث مکینوں کی موسمی نقل مکانی شروع

    بہاولپور: چولستان کے ریگستانی علاقوں میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری شدید گرمی اور تپتی دھوپ کے باعث پانی کے ذخائر تیزی سے خشک ہونے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی اور لاکھوں مویشیوں کو شدید پانی بحران کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چولستان میں موجود تقریباً دو ہزار قدرتی تالابوں میں سے ایک تہائی خشک ہوچکے ہیں، جس کے بعد صحرائی مکینوں نے پانی اور چارے کی تلاش میں موسمی نقل مکانی شروع کردی ہے۔

    ویب پورٹل واش ڈاٹ پی کے کے مطابق یہ تالاب، جنہیں مقامی زبان میں “ٹوبہ” کہا جاتا ہے، چولستان کے تقریباً تین لاکھ افراد اور پندرہ لاکھ مویشیوں کیلئے پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ شدید گرمی، بلند درجہ حرارت اور تیز بخارات بننے کے عمل نے بیشتر تالاب خشک کردیے ہیں جبکہ بعض علاقوں جیسے چھوری والا، کالی والا، بلوچاں والا، نوری والا اور ٹوٹا فن کے تالابوں میں گزشتہ ماہ ہونے والی بارش کے باعث کچھ پانی ابھی موجود ہے۔

    پانی کی قلت کے باعث بڑی تعداد میں چولستانی خاندان اپنے مویشیوں سمیت سرسبز علاقوں اور شہروں کی جانب منتقل ہورہے ہیں۔ کئی بستیاں، جہاں مٹی اور پھوس کے مکانات موجود تھے، اب ویران منظر پیش کررہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد افراد عیدالاضحیٰ کے موقع پر اپنے قربانی کے جانور فروخت کرنے کیلئے مختلف شہروں کا رخ بھی کرچکے ہیں۔

    چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے بعض علاقوں میں زیر زمین پائپ لائنوں کے ذریعے پانی فراہم کیا جارہا ہے، تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ فراہمی انسانی آبادی اور مویشیوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ناکافی ہے۔ کئی علاقوں میں پائپ لائنوں میں لیکیج کے باعث پانی کی ترسیل بھی متاثر ہورہی ہے۔

    چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہد حسن کلیانی نے تصدیق کی کہ شدید گرمی کے باعث بعض علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہوئی ہے، تاہم اتھارٹی زیر زمین لائنوں اور واٹر باؤزرز کے ذریعے پانی کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرمیوں میں تالابوں کا خشک ہونا چولستان کا ایک قدرتی عمل ہے اور صحرائی مکین صدیوں سے موسمی نقل مکانی کرتے آرہے ہیں۔ ان کے مطابق بارشوں کے آغاز کے بعد تالاب دوبارہ بھر جائیں گے اور لوگ اپنے مویشیوں سمیت واپس اپنی بستیوں میں لوٹ آئیں گے۔

  • بہاولنگر:اینٹی کرپشن سے نکالے جانے والے اہلکار کی پولیس سے بھی مبینہ غیر حاضری، ضلعی پولیس خاموش، سیاسی دباؤ کے تحت معاملہ دبانے کی کوشش؟

    بہاولنگر:اینٹی کرپشن سے نکالے جانے والے اہلکار کی پولیس سے بھی مبینہ غیر حاضری، ضلعی پولیس خاموش، سیاسی دباؤ کے تحت معاملہ دبانے کی کوشش؟

    بہاولنگر(نمائندہ خصوصی) محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب سے بدعنوانی اور قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات پر نکالے گئے پولیس اہلکار محمد اسلم کے حوالے سے ایک نیا تنازع سامنے آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن سے واپس ضلع پولیس بہاولنگر بھیجے جانے کے باوجود مذکورہ اہلکار نے اپنے اصل محکمے میں رپورٹ نہیں کیا اور مبینہ طور پر مسلسل غیر حاضر ہے، تاہم ضلعی پولیس اس صورتحال پر تاحال واضح مؤقف دینے سے گریزاں ہے، جس سے مبینہ سرپرستی اور سیاسی دباؤ کے تحت معاملہ دبانے کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ضلع پولیس بہاول نگر کے کانسٹیبل محمد اسلم کو 11 ستمبر 2015 کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب سے باضابطہ طور پر برطرف کیا گیا تھا۔ اس وقت جاری ہونے والے سرکاری حکم نامے میں واضح کیا گیا تھا کہ مذکورہ اہلکار فوری طور پر اپنے پیرنٹ ڈیپارٹمنٹ یعنی ضلع پولیس بہاولنگر میں رپورٹ کرے گا جبکہ آئندہ اینٹی کرپشن میں کسی بھی تعیناتی کے لیے نااہل تصور ہوگا۔

    اس کے باوجود ذرائع کا دعویٰ ہے کہ محمد اسلم کو 2021 میں دوبارہ اینٹی کرپشن میں تعینات کر دیا گیا، جس پر پہلے ہی محکمانہ شفافیت اور اثر و رسوخ کے استعمال کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے تھے۔ بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب کے احکامات کے تحت اسے دوبارہ اینٹی کرپشن سے واپس ضلع پولیس بہاول نگر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق سرکل انچارج اینٹی کرپشن بہاول نگر محمد اکرم زکی نے 9 مارچ 2026 کو باضابطہ طور پر محمد اسلم کو ضلع پولیس بہاولنگر واپس روانہ کر دیا تھا، تاہم حیران کن طور پر مذکورہ اہلکار نے اب تک ضلع پولیس میں رپورٹ نہیں کیا اور مبینہ طور پر مسلسل غیر حاضر ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال مزید مشکوک اس وقت ہوئی جب ضلعی پولیس بہاول نگر نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر لی اور یہ واضح نہیں کیا جا رہا کہ محمد اسلم اس وقت کہاں تعینات ہے، اس کی حاضری کس ریکارڈ میں ظاہر ہو رہی ہے اور اس کے خلاف غیر حاضری پر کیا کارروائی کی گئی ہے۔

    اندرونی ذرائع کے مطابق:

    کانسٹیبل محمد اسلم مبینہ طور پر سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اپنے خلاف محکمانہ کارروائی رکوانے اور دوبارہ کسی حساس عہدے پر تعیناتی کی کوششوں میں مصروف ہے، جبکہ ضلعی پولیس کی خاموشی بھی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

    ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ محمد اسلم کا نام بہاول نگر کے ایک متنازع “ایجوکیشن کرپشن کیس” میں بھی سامنے آ چکا ہے، جہاں اس پر الزام ہے کہ اس نے بعض سرکاری افسران اور ملازمین کو کیسوں میں نامزد کروا کر مبینہ طور پر مالی فوائد حاصل کیے۔ یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ وہ خود کو اینٹی کرپشن کا ڈپٹی ڈائریکٹر ظاہر کر کے مختلف افسران کو فون کرتا تھا، حالانکہ وہ محض ریڈر کے طور پر کام کر رہا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے محمد اسلم کے خلاف “بین لیٹر” بھی جاری کیا جا چکا ہے، تاہم اس کے باوجود اس کے خلاف مؤثر محکمانہ کارروائی نہ ہونا اور ضلعی پولیس کی جانب سے وضاحت نہ دینا پورے معاملے کو مزید مشکوک بنا رہا ہے۔

    عوامی حلقوں نے چیف سیکرٹری پنجاب، آئی جی پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف انکوائری کر کے یہ واضح کیا جائے کہ ایک بلیک لسٹ اور مبینہ غیر حاضر اہلکار کو آخر کس کی سرپرستی حاصل ہے اور اس کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔