Category: واٹر اینڈ سینی ٹیشن

Water and Sanitation Services

  • میونسپل کمیٹی کی مبینہ غفلت، سیوریج لائن میں زہریلی گیس سے دو سیور مین جاں بحق، دو کی حالت غیر

    میونسپل کمیٹی کی مبینہ غفلت، سیوریج لائن میں زہریلی گیس سے دو سیور مین جاں بحق، دو کی حالت غیر

    چشتیاں(عامر سہیل سے) میونسپل کمیٹی چشتیاں کی مبینہ غفلت اور حفاظتی اقدامات کے فقدان کے باعث بھٹہ کالونی چوک میں سیوریج لائن کی صفائی کے دوران پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے باعث دو سیور مین جاں بحق جبکہ دو دیگر متاثر ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق صفائی کے دوران پہلے دو مزدور مین ہول میں اترے، جہاں موجود زہریلی گیس کے باعث وہ بے ہوش ہو گئے۔ انہیں بچانے کے لیے مزید دو افراد بھی مین ہول میں اترے، تاہم وہ بھی گیس سے متاثر ہو گئے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور امدادی کارروائی کرتے ہوئے چاروں افراد کو باہر نکالا۔

    حادثے میں 27 سالہ عرفان مسیح ولد اقبال اور 45 سالہ شفیق مسیح ولد رفیق جان کی بازی ہار گئے، جبکہ شمعون مسیح ولد یونس مسیح کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا۔ منیر ولد جیت مسیح کی حالت تشویشناک ہونے پر اسے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال چشتیاں منتقل کر دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق جاں بحق عرفان مسیح اپنے پیچھے تین بیٹے اور دو بیٹیاں جبکہ شفیق مسیح دو بیٹیوں، ایک بیٹے اور اہلیہ کو سوگوار چھوڑ گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہوگئی اور شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔

    مقامی افراد اور سماجی حلقوں نے الزام عائد کیا کہ سیوریج لائنوں کی صفائی کے لیے مختص بجٹ اور حکومتی دعوؤں کے باوجود عملے کو بنیادی حفاظتی سامان، گیس ڈیٹیکٹرز، حفاظتی کٹس اور جدید مشینری فراہم نہیں کی جاتی، جس کے باعث مزدور اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر کام کرنے پر مجبور ہیں۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار افسران کا تعین کیا جائے، غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور آئندہ ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے سیوریج عملے کو جدید حفاظتی آلات اور تربیت فراہم کی جائے۔

  • بہاولنگر میں نصب کئے گئے واٹر فلٹر پلانٹس غیرفعال، شہری پینے کے صاف پانی سے محروم

    بہاولنگر میں نصب کئے گئے واٹر فلٹر پلانٹس غیرفعال، شہری پینے کے صاف پانی سے محروم

    بہاولنگر (نمائندہ خصوصی): بہاولنگر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے مختلف ادوار میں قائم کیے گئے متعدد واٹر فلٹر پلانٹس غیرفعال ہونے کے باعث شہری آج بھی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے اور بند فلٹر پلانٹس کو فعال بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    انسانی حقوق کی تنظیم کے عہدیدار میاں مشتاق احمد جوئیہ نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کی جانب سے مختلف علاقوں میں واٹر فلٹر پلانٹس تو نصب کیے گئے، تاہم ان میں سے بیشتر منصوبے فعال نہیں ہیں اور عوام کو ان سے کوئی عملی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔

    انہوں نے بتایا کہ جودھیانہ بستی میں قائم فلٹر پلانٹ مبینہ طور پر نصب ہونے کے بعد ایک دن بھی مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا، جبکہ فیصل کالونی اور ریگڑہ بستی کے فلٹر پلانٹس بھی طویل عرصے سے بند پڑے ہیں۔

    اسی طرح چشتیاں روڈ وکلا کالونی میں قائم فلٹر پلانٹ میں پانی کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ جیل روڈ پر واقع فلٹر پلانٹ مکمل طور پر غیرفعال ہے۔ ماڈل ٹاؤن کا فلٹر پلانٹ بھی خستہ حالی اور ناقص دیکھ بھال کا شکار بتایا جاتا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ واٹر فلٹر پلانٹس پر سرکاری وسائل خرچ کیے گئے، لیکن مناسب نگرانی اور دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث یہ منصوبے اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ گرمی کے موسم میں صاف پانی کی عدم دستیابی نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

    سماجی رہنماؤں نے ڈپٹی کمشنر بہاولنگر سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام غیر فعال فلٹر پلانٹس کا فوری سروے کروا کر انہیں فعال بنایا جائے تاکہ شہریوں کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے۔

    شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں کو بھی اس اہم مسئلے پر توجہ دینی چاہیے اور ترقیاتی منصوبوں کی صرف افتتاحی تقریبات تک محدود رہنے کے بجائے ان کی مسلسل نگرانی اور مؤثر آپریشن کو یقینی بنانا چاہیے۔

    مقامی افراد کے مطابق صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو اس بنیادی سہولت کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کریں۔

  • چشتیاں میں مین ہول کے ڈھکن غائب، شہری خطرے کی زد میں، بلدیہ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت

    چشتیاں میں مین ہول کے ڈھکن غائب، شہری خطرے کی زد میں، بلدیہ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت

    چشتیاں: شہر کے وسط میں متعدد مقامات پر گٹروں کے ڈھکن عرصہ دراز سے غائب ہیں، جس سے راہگیروں اور گاڑیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اہل محلہ نے کئی بار بلدیہ انتظامیہ کو تحریری اور زبانی شکایات دیں، لیکن انتظامیہ ہر بار ان شکایات کو نظر انداز کرتی رہی۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کا رویہ کسی بڑے سانحے کی منتظر ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مین ہول کے ڈھکنوں کی حفاظت اور بروقت مرمت کے حوالے سے سخت ہدایات جاری کی تھیں، مگر چشتیاں کی بلدیہ انتظامیہ ان احکامات پر عملدرآمد سے انکاری ہے۔ شہری عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلدیہ چشتیاں میں مبینہ طور پر کرپٹ عناصر کی اجارہ داری ہے، اور بوگس بل (جعلی درخواستیں) تیار کیے جا رہے ہیں جس سے خزانے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

    شہریوں کا مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بلدیہ چشتیاں کا خفیہ آڈٹ کرائیں، اور کرپٹ ملازمین کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ساتھ ہی گٹروں کے غائب ڈھکنوں کو فوری طور پر بحال کرایا جائے تاکہ کسی ناگہانی حادثے سے بچا جا سکے۔

    فیصلہ کن اقدامات نہ ہوئے تو شہری احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے، مقامی شہریوں کا بیان

    واضح رہے کہ اس ضمن میں چیف سیکرٹری پنجاب اور کمشنر بہاولپور ڈویژن سے بھی شہریوں نے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

  • چولستان میں تالاب خشک، پانی کی شدید قلت کے باعث مکینوں کی موسمی نقل مکانی شروع

    چولستان میں تالاب خشک، پانی کی شدید قلت کے باعث مکینوں کی موسمی نقل مکانی شروع

    چولستان میں تالاب خشک، پانی کی شدید قلت کے باعث مکینوں کی موسمی نقل مکانی شروع

    بہاولپور: چولستان کے ریگستانی علاقوں میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری شدید گرمی اور تپتی دھوپ کے باعث پانی کے ذخائر تیزی سے خشک ہونے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی اور لاکھوں مویشیوں کو شدید پانی بحران کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چولستان میں موجود تقریباً دو ہزار قدرتی تالابوں میں سے ایک تہائی خشک ہوچکے ہیں، جس کے بعد صحرائی مکینوں نے پانی اور چارے کی تلاش میں موسمی نقل مکانی شروع کردی ہے۔

    ویب پورٹل واش ڈاٹ پی کے کے مطابق یہ تالاب، جنہیں مقامی زبان میں “ٹوبہ” کہا جاتا ہے، چولستان کے تقریباً تین لاکھ افراد اور پندرہ لاکھ مویشیوں کیلئے پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ شدید گرمی، بلند درجہ حرارت اور تیز بخارات بننے کے عمل نے بیشتر تالاب خشک کردیے ہیں جبکہ بعض علاقوں جیسے چھوری والا، کالی والا، بلوچاں والا، نوری والا اور ٹوٹا فن کے تالابوں میں گزشتہ ماہ ہونے والی بارش کے باعث کچھ پانی ابھی موجود ہے۔

    پانی کی قلت کے باعث بڑی تعداد میں چولستانی خاندان اپنے مویشیوں سمیت سرسبز علاقوں اور شہروں کی جانب منتقل ہورہے ہیں۔ کئی بستیاں، جہاں مٹی اور پھوس کے مکانات موجود تھے، اب ویران منظر پیش کررہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد افراد عیدالاضحیٰ کے موقع پر اپنے قربانی کے جانور فروخت کرنے کیلئے مختلف شہروں کا رخ بھی کرچکے ہیں۔

    چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے بعض علاقوں میں زیر زمین پائپ لائنوں کے ذریعے پانی فراہم کیا جارہا ہے، تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ فراہمی انسانی آبادی اور مویشیوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ناکافی ہے۔ کئی علاقوں میں پائپ لائنوں میں لیکیج کے باعث پانی کی ترسیل بھی متاثر ہورہی ہے۔

    چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہد حسن کلیانی نے تصدیق کی کہ شدید گرمی کے باعث بعض علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہوئی ہے، تاہم اتھارٹی زیر زمین لائنوں اور واٹر باؤزرز کے ذریعے پانی کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرمیوں میں تالابوں کا خشک ہونا چولستان کا ایک قدرتی عمل ہے اور صحرائی مکین صدیوں سے موسمی نقل مکانی کرتے آرہے ہیں۔ ان کے مطابق بارشوں کے آغاز کے بعد تالاب دوبارہ بھر جائیں گے اور لوگ اپنے مویشیوں سمیت واپس اپنی بستیوں میں لوٹ آئیں گے۔

  • چشتیاں شہر میں برساتی نالہ بند ہونے سے گندا پانی سڑکوں پر

    چشتیاں شہر میں برساتی نالہ بند ہونے سے گندا پانی سڑکوں پر

    مقامی انٹظامیہ کی عدم توجہی، اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں کو با قاعدہ درخواست دینے کے باوجود مسئلہ کے حل کے لئے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی

    چشتیاں: گلشن اقبال چوک کے قریب قاضی والا روڈ پر قائم برساتی نالہ بند ہونے کے باعث گندا پانی سڑکوں اور اطراف میں جمع ہونا شروع ہوگیا ہے، جس سے علاقے کے دکانداروں اور رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں کے مطابق تعفن اور گندگی کے باعث مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں جبکہ صورتحال روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے۔

    مقامی شہریوں نے انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ برساتی نالے کی صفائی نہ ہونے کے باعث گندا پانی نالے سے باہر نکل کر بازار اور رہائشی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد افراد پہلے ہی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ مزید لوگوں کے متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے ایک شہری نے مورخہ 30 اپریل 2026 کو اسسٹنٹ کمشنر اور بلدیہ حکام کو باقاعدہ درخواست بھی جمع کروائی تھی، تاہم 22 مئی 2026 تک اس پر کوئی عملی کارروائی نہیں کی گئی۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ نے درخواست کو نظر انداز کر دیا ہے۔

    شہریوں نے عیدالاضحیٰ سے قبل فوری صفائی آپریشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے “صاف ستھرا پنجاب” وژن کو عملی شکل دینے کے لیے ضروری ہے کہ نکاسی آب کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں تاکہ عوام کو بیماریوں اور بدبو سے نجات مل سکے۔

  • چشتیاں میں ہلکی بارش، انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے نکاسی آب کا نظام مکمل ناکام

    چشتیاں میں ہلکی بارش، انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے نکاسی آب کا نظام مکمل ناکام

    چشتیاں(نمائندہ مقامی حکومت) چشتیاں میں ہلکی سی بارش نے شہر کی نااہل انتظامیہ اور انکی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ چشتیاں میں حالیہ بارش نے شہری انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی کی کارکردگی کا پول کھول کر رکھ دیا ھے جس پہ شہری حلقوں میں کڑی تنقید کی جا رہی ھے۔گوکہ بارش کا برسنا لوگوں کے لئے باعث رحمت ھوتا ھے لیکن یہاں صورت حال بالکل مختلف ھے۔ بارش کے چند قطروں کے بعد ہی شہر کے اہم چوکوں، چوراہوں اور مرکزی شاہراہوں پر پانی جمع ہو گیا، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مقامی افراد کے مطابق گلی محلوں کی صورتحال تو پہلے ہی ابتر تھی، تاہم اب شہر کے مرکزی علاقوں میں بھی سیوریج کا نظام ناکام دکھائی دیتا ھے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے دعوے اور حالیہ اقدامات محض نمائشی ثابت ہوئے ہیں جبکہ عملی طور پر کوئی مؤثر بہتری نظر نہیں آئی۔مزید برآں، شہری حلقوں میں اس بات پر بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ

    مقامی سیاسی راہنماوں کی جانب سے مختلف مواقع پر ترقیاتی کاموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیاجاتارہا ھے۔

    جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ مقامی عوامی نمائندوں اور میونسپل کمیٹی کے ذمہ داران پر الزام ہے کہ وہ بنیادی مسائل کے حل کے بجائے نمائشی سرگرمیوں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔شہریوں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ چشتیاں شہر میں نکاسی آب کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے اور حالیہ صورتحال کی غیر جانبدارانہ انکوائری کےذریعے ذمہ داران کا تعین کرکے انکے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ مون سون کی بارشوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

  • چشتیاں میں سیوریج نظام کی ناکامی، عید کے روز مکینوں کا احتجاج

    چشتیاں میں سیوریج نظام کی ناکامی، عید کے روز مکینوں کا احتجاج

    چشتیاں (نمائندہ مقامی حکومت) تحصیل چشتیاں کے علاقے بھٹہ کالونی میں ناقص سیوریج نظام کے خلاف علاقہ مکینوں نے عید الفطر کے روز احتجاج کیا۔ کئی روز سے گلیوں میں گندا پانی جمع ہونے کے باعث شدید بدبو اور تعفن پھیل گیا ہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    مقامی افراد کے مطابق سیوریج کا پانی گھروں کے باہر کھڑا رہنے سے نہ صرف آمدورفت متاثر ہو رہی ہے بلکہ نماز اور دیگر روزمرہ معمولات کی ادائیگی بھی مشکل ہو گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار بلدیہ حکام کو شکایات درج کروائیں، تاہم کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

    عید جیسے اہم مذہبی موقع پر بھی صفائی اور نکاسی آب کے ناقص انتظامات کے باعث صورتحال جوں کی توں رہی جس پر مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے حکام کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور علاقے میں صفائی کے مؤثر انتظامات کیے جائیں۔

    مظاہرین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی کہ چشتیاں اور اس کے نواحی علاقوں میں صفائی اور سیوریج کے مسائل کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور دیانتدار و فرض شناس افسران تعینات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

  • چشتیاں: قیامت خیز گرمی کے بعد پہلی بارش، سیوریج نظام کی ناکامی نے شہر کو ڈبو دیا

    چشتیاں: قیامت خیز گرمی کے بعد پہلی بارش، سیوریج نظام کی ناکامی نے شہر کو ڈبو دیا

    بلدیہ چشتیاں میں اہل و دیانتدار افسران کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔

    چشتیاں – ایک ماہ تک جاری رہنے والی 47 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید گرمی کے بعد جیسے ہی چشتیاں میں مون سون کی پہلی بارش ہوئی، شہر کے باسیوں پر ایک نیا عذاب ٹوٹ پڑا۔ ناقص نکاسی آب اور غیر فعال سیوریج سسٹم کے باعث شہر کے بیشتر علاقے بارش کے پانی میں ڈوب گئے۔

    بازار، مصروف سڑکیں، سرکاری و نجی دفاتر، کاروباری مراکز -سبھی جگہیں پانی میں گھر گئیں۔ واضح رہے کہ کچھ سال قبل سیوریج نظام کی بہتری کے لیے ایک ارب بیس کروڑ روپے کی لاگت سے ایک منصوبہ شروع کیا گیا تھا، جو مکمل ناکامی کا شکار ہو چکا ہے۔

    ذرائع کے مطابق بلدیہ چشتیاں کے ایڈمنسٹریٹر اور دیگر متعلقہ افسران نے پنجاب حکومت کی واضح ہدایات کے باوجود سیوریج نالوں کی صفائی پر کوئی توجہ نہ دی۔ نتیجتاً، ہائی وے روڈ، منہاج ٹریول چوک، ملک مظفر چوک، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال چوک، بلدیہ چوک، چمن بازار، غلہ منڈی، جامعہ بازار سمیت متعدد علاقے پانی میں ڈوب گئے۔

    بارش کے بعد شہریوں کو گزرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے جبکہ بلدیہ حکام مکمل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

    شہریوں، سیاسی و سماجی تنظیموں اور کاروباری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور کمشنر بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ نکاسی آب کے اس بحران پر فوری نوٹس لیا جائے۔ متعلقہ افسران کی غفلت، لاپرواہی اور مبینہ بددیانتی پر کارروائی کی جائے اور بلدیہ چشتیاں میں اہل و دیانتدار افسران کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔

    عوام نے زور دیا ہے کہ بارش کے پانی کی فوری نکاسی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ شہری زندگی معمول پر آ سکے۔

  • چشتیاں میں بدبودار پانی کی فراہمی پر شدید احتجاج – پینےکےصاف پانی کی فراہمی کا مطالبہ

    چشتیاں میں بدبودار پانی کی فراہمی پر شدید احتجاج – پینےکےصاف پانی کی فراہمی کا مطالبہ

    چشتیاں (نمائندہ خصوصی) اہلیان چشتیاں نے بدبودار اور سیوریج ملے پانی کی فراہمی کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بدبودار پانی کی بجائے پینے کا صاف پانی ہر گھر تک پہنچایا جائے۔ شہریوں نے اس سنگین مسئلے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مقامی ایم این اے احسان الحق باجوہ، اسسٹنٹ کمشنر/ ایڈمنسٹریٹر بلدیہ چشتیاں اور خاص طور پر چیئرمین پنجاب صاف پانی اتھارٹی میاں زاہد اکرم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ھے۔

    اہلیان چشتیاں کا کہنا ہے کہ صاف پانی کی فراہمی پنجاب صاف پانی اتھارٹی کی بنیادی ذمہ داری ہے اور میاں زاہد اکرم اس ادارے کے سربراہ ہونے کے ناطے براہ راست جوابدہ ہیں۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب پنجاب صاف پانی اتھارٹی کا مقصد ہی شہریوں کو صاف پانی فراہم کرنا ہے تو پھر چشتیاں کے باسی کیوں کئی عرصے سے بدبودار اور مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں؟

    شہری اتحاد نے ایم این اے احسان الحق باجوہ سے بھی مطالبہ کیا ھے کہ وہ اہلیان چشتیاں کی نمائندگی کا حق ادا کرتے ھوئے مقامی انتظامیہ سے انکی غفلت اور نااہلی کے حوالے سے باز پرس کریں جن کی وجہ سے شہری پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ بدبودار پانی کی فراہمی کے باعث نہ صرف شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے بلکہ ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور دیگر آبی امراض پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلدیہ کے عملے کی نااہلی اور پنجاب صاف پانی اتھارٹی کی عدم توجہی کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے جائز مطالبات پر فوری توجہ نہ دی گئی اور صاف پانی کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا گیا تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے اور ذمہ داران کے خلاف احتجاج کے علاوہ قانونی چارہ جوئی کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں۔