Tag: چشتیاں

  • 14 سالہ اذان محمود نے صرف پانچ ماہ میں قرآن مجید حفظ کر لیا، والدین اور اساتذہ کا سر فخر سے بلند

    14 سالہ اذان محمود نے صرف پانچ ماہ میں قرآن مجید حفظ کر لیا، والدین اور اساتذہ کا سر فخر سے بلند

    چشتیاں: چشتیاں سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اور چشتیاں آزاد میڈیا گروپ کے صدر ممتاز انجم ہاشمی کے صاحبزادے حافظ اذان محمود نے محض پانچ ماہ کے مختصر عرصے میں قرآن مجید حفظ کر کے اپنے والدین، اساتذہ اور علاقے کا نام روشن کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق 14 سالہ اذان محمود نے لاہور کی معروف دینی درسگاہ مسجد معراج فاطمہ میں مفکرِ اسلام حضرت مولانا محمد احمد شاہ نوری سبطین حسنین شاہ کی سرپرستی اور ماہر اساتذہ کی نگرانی میں حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی۔

    حافظ اذان محمود کی دستار بندی کی پُروقار تقریب 26 جون 2026ء (10 محرم الحرام) بروز جمعہ مسجد معراج فاطمہ لاہور میں منعقد ہوئی، جس میں ریونیو پنجاب کے ممبر ملک وحید سمیت علمائے کرام، معزز شخصیات، اہلِ علاقہ اور بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران حافظ اذان محمود کو پھولوں کے ہار اور گلدستے پیش کیے گئے اور ان کی اس شاندار کامیابی پر مبارکباد دی گئی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسجد معراج فاطمہ کے مہتمم مولانا قاری محمد احمد شاہ نوری نے کہا کہ حافظ اذان محمود نے غیر معمولی محنت، لگن اور استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتہائی کم مدت میں حفظِ قرآن مکمل کیا، جو قابلِ تحسین کامیابی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مدرسہ میں حفظ، ناظرہ اور دینی تعلیم کے طلبہ کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور بہترین تعلیمی و تربیتی ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔

    اس موقع پر حافظ اذان محمود نے کہا کہ قرآن مجید حفظ کرنے میں ان کے والدین کی دعاؤں، خواہشات اور اساتذہ کی محنت کا بنیادی کردار ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ آئندہ بھی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم حاصل کریں گے اور اپنی زندگی دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کریں گے۔

    والد ممتاز انجم ہاشمی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ میرے بیٹے نے صرف پانچ ماہ میں قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے خاندان کے لیے ایک عظیم اعزاز اور باعثِ فخر لمحہ ہے، جس پر وہ اپنے اساتذہ اور تمام خیر خواہوں کے بھی شکر گزار ہیں۔

  • چشتیاں کو ضلع بنانے کی ضرورت اور اہمیت

    چشتیاں کو ضلع بنانے کی ضرورت اور اہمیت

    تحریر: محمد عامر سہیل

    چشتیاں پنجاب کے جنوبی خطے کا ایک اہم، تاریخی اور زرخیز علاقہ ہے جو اپنی زراعت، محنتی لوگوں اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے نمایاں مقام رکھتا ہے کیونکہ چشتیاں کو باقاعدہ طور پر برطانوی دور میں تقریباً 1927ء کے آس پاس تحصیل کا درجہ دیا گیا۔چشتیاں پہلے ایک چھوٹا سا علاقہ تھا جسے روہیلانوالی کہا جاتا تھا، بعد میں اس کا نام بدل کر چشتیاں رکھا گیاتحصیل بننے کی اصل وجوہات ریلوے اسٹیشن کی اہمیت ھےجب برطانوی حکومت نے یہاں ریلوے لائن بنائی تو چشتیاں ایک اہم اسٹاپ بن گیا اس سے شہر کی اہمیت تیزی سے بڑھی اورنہری نظام (ستلج ویلی پراجیکٹ)1920 کی دہائی میں نہریں بنیں بنجر زمینیں آباد ہوئیں زراعت اور آبادی میں بہت اضافہ ہوا آبادی اور منڈی کےقیام کے بعد لوگ یہاں آکر آباد ہونے لگےگندم، کپاس اور دیگر فصلوں کی بڑی منڈی بنی انتظامی مرکز بنانے کی ضرورت پڑی ریاست بہاولپور کی انتظامی پالیسی پریہ علاقہ اس وقت ریاست بہاولپور کے زیرِ انتظام تھا نواب بہاولپور نے بہتر نظم و نسق کے لیے اسے تحصیل بنا دیا 1953میں جب بہاولنگر کو ضلع بنا یا گیا تو تحصیل چشتیاں کےساتھ حاصل پور بھی ضلع بہاولنگر کا حصہ تھی بعد ازاں حاصل پور کو بہاولپور ضلع میں شامل کر دیاگیا تحصیل چشتیاں کی اس وقت کل یونین کونسلز31جبکہ میونسپل کمیٹی کی 10ہیں تحصیل چشتیاں کاحلقہ قومی اسمبلی کی 2اورصوبائی اسمبلی کی3 نشستوں پر مشتمل ہے جس میں( این اے161)این اے162)( پی پی239) 241) ( 242)شامل ہیں این اے 161میں تحصیل چشتیاں کا تقریباً 12کلو میٹر چک عبداللہ چک نمبر1گجیانی تک این اے 161اورپی پی 239شامل ہیں جبکہ این اے 162موضع شعلی غربی (ملحقہ ہیڈ اسلام حاصل پور) سے شروع ہوکر چشتیاں ڈاہرانوالا بخشن خان اور ہارون آباد کی 6یونین کونسل شامل ہیں جبکہ ڈاہرانوالا سےچک نمبر209مراد تحصیل چشتیاں کا آخری گاؤں گےاس سےآگے ایک جانب تحصیل حاصل پور اور دوسری جانب چولستان کاعلاقہ ساتھ لگتاھے تحصیل ہارون آباد ،تحصیل فورٹ عباس تحصیل حاصل پور اور ڈاہرانوالا کو تحصیل کادرجہ دیکر چشتیاں کو ضلع بنایا جاسکتا ہے تحصیل چشتیاں کی کل ابادی تقریباً 8لاکھ ھے اور 31یونین کونسلز ہیں ، تحصیل ہارون آباد کی تقریباً آبادی6لاکھ اور22یونین کونسلز ہیں تحصیل فورٹ عباس کی آبادی تقریباً 5لاکھ اور16یونین کونسلز ہیں جبکہ تحصیل حاصل پور کی آبادی 5لاکھ 6ہزار ھےاوریونین کونسلز 15 ہیں تمام تحصیلوں کی ابادی 2023کی مردم شماری کے مطابق ھے آبادی کے لحاظ سے تحصیل چشتیاں ان سب سے بڑی ھےعرصہ دراز سے یہاں کے عوام یہ مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ چشتیاں کو ضلع کا درجہ دیا جائے تاکہ انتظامی سہولیات بہتر ہوں اور ترقی کے نئے دروازے کھل سکیں گے کیونکہ چشتیاں ضلع بہاولنگر کی ایک بڑی اور اہم تحصیل ہے۔

    یہ شہر اپنی روحانی نسبت (چشتی سلسلہ)، زرخیز زمینوں اور بڑی آبادی کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر زراعت، کاروبار اور چھوٹی صنعتوں سے وابستہ ہیں چشتیاں کی آبادی چشتیاں کی آبادی لاکھوں افراد پر مشتمل ہے۔ اندازاً اس کی آبادی 8 سے 10 لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے (وقت کے ساتھ اضافہ جاری ہے)۔ اس بڑی آبادی کے باعث انتظامی مسائل بھی بڑھ رہے ہیں جن کے حل کے لیے ضلع کا درجہ انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہےچشتیاں کا رقبہ چشتیاں کا مجموعی رقبہ وسیع زرعی زمینوں پر مشتمل ہے۔ اس میں کئی دیہات، قصبات اور زرعی علاقے شامل ہیں جو اسے ایک بڑی اور اہم تحصیل بناتے ہیں۔ یہاں کی زمین گندم، کپاس اور دیگر فصلوں کے لیے انتہائی موزوں ہےچشتیاں کا نام برصغیر پاک وہند کے مشہور اولیاء کرام حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے پوتے حضرت بابا تاج الدین سرور چشتی رحمۃ اللہ علیہ چشتی سلسلے سے منسوب ہے۔ یہ خطہ صدیوں سے علم، روحانیت اور زراعت کا مرکز رہا ہے۔ یہاں کی ثقافت پنجاب کے دیہی حسن اور سادگی کی بہترین مثال ہےچشتیاں کے آخری دیہات چشتیاں تحصیل کے آخری علاقوں میں شامل ہیں نہر مراد،نہرفتح،نہر فورڈ واہ،اس کے علاوہ سرحدی اور دور دراز دیہات جو چولستان کے قریب واقع ہیں یہ علاقے انتظامی لحاظ سے کافی دور ہیں، جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہےتحصیل چشتیاں اور تحصیل بوریوالہ کو آپس میں ملانے کے لئے چشتیاں ساہوکا کے درمیان دریائے ستلج پر پل کی تعمیر علاقے کی تعمیر وترقی کے لئے ناگزیر ہے ساہوکا پل کی تعمیر سےچشتیاں کا زمینی رابطہ جو عرصہ دراز سے پنجاب سے منقطع گےاس پل کی تعمیر کے بعد چشتیاں کا زمینی رابطہ براہ راست پورے پنجاب سے ھوجائیگاجس سےبوریوالہ چشتیاں کے درمیان نہ صرف فاصلہ کم ھوگا بلکہ علاقہ کی ترقی کے لئے مثبت قدم ھےعدم تعمیر ایک عرصہ سے مقامی آبادی کے لیے سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے، جس کے باعث روزمرہ زندگی، کاروباری سرگرمیوں اور سفری سہولیات میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں تحصیل چشتیاں اور تحصیل بورےوالا کے درمیان براہ راست رابطہ نہ ہونے کے باعث شہریوں کو چالیس سے پچاس کلومیٹر تک اضافی سفر کرنا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف وقت بلکہ ایندھن کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہےاوریہ صورتحال خاص طور پر کسانوں اور تاجروں کے لیے انتہائی مشکلات کا باعث ہے، جنہیں اپنی اجناس منڈیوں تک پہنچانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر دریائے ستلج پر پل تعمیر کر دیا جائے تو نہ صرف دونوں تحصیلوں کے درمیان فاصلے کم ہوں گے بلکہ علاقائی تجارت کو بھی فروغ ملے گا اور عوام کو سفری سہولیات میسر آئیں گی یہ منصوبہ علاقے کی معاشی ترقی کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہےاگر چشتیاں کو ضلع بنا دیا جائے توانتظامی نظام بہتر ہوگا عوام کو سرکاری دفاتر قریب ملیں گےترقیاتی منصوبے تیزی سے مکمل ہوں گےروزگار کے مواقع بڑھیں گےتعلیم اور صحت کی سہولیات بہتر ہوں گی مجوزہ ضلع چشتیاں کی تحصیلیں اگر چشتیاں کو ضلع بنایا جائے تو اس میں درج ذیل تحصیلیں بنائی جا سکتی ہیں چشتیاں (مرکزی تحصیل)فورٹ عباس، ہارون آباد،حاصل پور،ڈاہرانوالہ یہ تقسیم انتظامی لحاظ سے بہت بہتر اور متوازن ہوگی کیونکہ ہر علاقہ پہلے ہی جغرافیائی اور آبادی کے لحاظ سے مضبوط حیثیت رکھتا ہے۔چشتیاں کو ضلع کا درجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف عوام کے دیرینہ مسائل کا حل ہوگا بلکہ پورے علاقے کی ترقی، خوشحالی اور بہتر انتظامی ڈھانچے کی طرف ایک بڑا قدم ثابت ہوگا۔ حکومت اگر اس مطالبے پر غور کرے تو جنوبی پنجاب کے اس خطے میں ایک نیا ترقیاتی دور شروع ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔

  • چشتیاں میں شہر کی خوبصورتی کے نام پر ہونے والے غیر معیاری تعمیراتی کام، شہریوں نے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

    چشتیاں میں شہر کی خوبصورتی کے نام پر ہونے والے غیر معیاری تعمیراتی کام، شہریوں نے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

    چشتیاں: شہر کو خوبصورت بنانے اور دیگر ترقیاتی کاموں کے نام پہ جاری منصوبوں پہ ہونے والے تعمیراتی کاموں کے غیرمعیاری ہونے پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین اور شہریوں نے ان کاموں کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ٹھیکیداروں کی جانب سے کیے جانیوالے بے دریغ تعمیراتی کام کا معیار انتہائی ناقص ہے۔ سیوریج سسٹم کے ڈیزائن میں بنیادی خامیاں پائی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق سیوریج کے بہاؤ کے لیے مناسب ڈھلان (Proper Flow Gradient) اور مین ہولز کے لیے بلند بنیاد (Plinth Level) ضروری ہے، اسکے علاوہ زیادہ تر مین ہولز نیچے سے کھلے چھوڑ دیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے گندے پانی کا زیر زمین رساؤ سلج کو نیچے بٹھا دیتا ہے اور نکاسی آب کا نظام درست طریقے سے کام نہیں کرتا۔

    مقامی ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ مقامی کمیونٹیز سے بغیر مشاورت کے اندھا دھند سر سبز درخت کاٹے جا رہے ہیں جس سے ماحولیاتی خطرات پیدا ہو رہے ہیں اور مقامی شہریوں کی زندگی بھی اجیرن ہو گئی ہے۔

    سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ان ٹھیکیداروں کے پاس اس نوعیت کے تعمیراتی کام کرنے کے لیے ضروری تکنیکی قابلیت اور تجربہ موجود ہے؟ شہریوں کے مطابق ان منصوبوں میں کام کے ناقص معیار پہ جس طرح سمجھوتہ کیا جا رہا ہے اس سے مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت اور سیاسی سرپرستی بھی واضح نظر آتی ہے۔

    عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام تعمیراتی منصوبوں کا از سر نو مکمل جائزہ لیا جائےاوران کی تحقیقات کسی معروف تعمیراتی کنسلٹنٹ فرم سے کروائی جائے اور ناقص اور غیر معیاری کام کرنے والے ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے، اور مستقبل میں تعمیراتی کاموں کے لیے سیاسی اثر ورسوخ کی بجائے ٹھیکیداروں کی تکنیکی قابلیت کو بنیاد بنایا جائے۔ شہریوں نے مزید کہا کہ درختوں کی بلاوجہ کٹائی پر فوری پابندی عائد کی جائے ۔

  • چشتیاں: پل نہر فتح پر پولیس اور ڈاکوؤں میں مقابلہ، ایک ڈاکو اسلحہ اور مسروقہ موٹرسائیکل سمیت گرفتار

    چشتیاں: چشتیاں کے قریب پل نہر فتح پر سی سی ڈی پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ مقابلے کے بعد ایک ڈاکو کو اسلحہ اور مسروقہ موٹرسائیکل سمیت گرفتار کر لیا گیا جبکہ دوسرا ڈاکو فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

    اسسٹنٹ سب انسپکٹر فہیم عالم کے مطابق وہ اپنے پولیس جوانوں کے ہمراہ مجرمان اشتہاری اور سماج دشمن عناصر کی گرفتاری کے لیے پل نہر فتح شہید چوک پر نصف رات موجود تھے۔ اسی دوران شہید چوک کی جانب سے ایک موٹرسائیکل جس پر دو افراد سوار تھے، آتی دکھائی دی۔

    پولیس نے ٹارچ کے ذریعے رکنے کا اشارہ کیا لیکن انہوں نے رکنے کی بجائے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی اور تیز رفتاری سے چشتیاں شہر کی طرف موٹرسائیکل بھگا دی۔ تاہم موٹرسائیکل بے قابو ہو کر پل نہر فتح کی دیوار سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے میں پیچھے بیٹھا شخص اور موٹرسائیکل زمین پر گر پڑے جبکہ دوسرا شخص رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گیا۔

    پولیس نے زمین پر پڑے شخص کو گرفتار کر لیا۔ ملزم نے اپنا نام اور پتہ محمد سلیم عرف سلیمی ولد محمد نواز قوم جوئیہ سکنہ پیر شاہ بہاولنگر حال چک 123/6R ہارون آباد بتایا۔ ملزم کے قبضے سے ناجائز پسٹل اور ایک موٹرسائیکل سوزوکی 110 برآمد ہوئی جو ہارون آباد کے مقدمہ نمبر 163/26 میں مسروقہ پائی گئی۔

    زخمی ملزم کو تحصیل ہسپتال چشتیاں منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف دفعات 324، 353، 186، 411، 34 اور ناجائز اسلحہ رکھنے کے الزام میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ فرار ہونے والے دوسرے ملزم کی تلاش جاری ہے۔

  • تھانہ بخشن خاں پولیس بے بس، چور بیوہ خاتون کے 54 لاکھ کے زیورات لے اُڑے

    چشتیاں: نواحی چک 11 فورڈ واہ میں چار نامعلوم چوروں نے ایک بیوہ خاتون کے گھر میں ڈکیتی کی واردات کو انجام دیتے ہوئے 54 لاکھ روپے مالیت کے طلائی زیورات اور 5 لاکھ 60 ہزار روپے نقدی چوری کر لی۔ تھانہ بخشن خاں پولیس کی ناقص کارکردگی اور بروقت کارروائی نہ کرنے پر شہریوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    متاثرہ خاتون سلمی بی بی بیوہ طارق عزیز کے مطابق وہ علی الصبح فجر کی نماز پڑھنے کے لیے اٹھی تو دیکھا کہ رہائشی کمرے کا سامان بکھرا ہوا تھا اور دو سیف الماریوں کے تالے ٹوٹے ہوئے تھے۔ چور 12 تولہ سونا اور نقدی لے کر فرار ہو گئے۔

    تھانہ بخشن خاں پولیس نے نامعلوم چوروں کے خلاف دفعات 380 کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع تو کر دی ہے لیکن اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔ پولیس کی سست رفتار کارروائی نے شہریوں کو مزید پریشان کر دیا ہے۔

    چک 11 فورڈ واہ کے معززین نے ڈی ایس پی چشتیاں اور ڈی پی او بہاولنگر سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اگر تھانہ بخشن خاں پولیس نے بروقت کارروائی کی ہوتی تو چوروں کے حوصلے بلند نہ ہوتے۔

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے بھی اپیل کی ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور متاثرہ خاتون کو انصاف دلایا جائے۔

  • بہاولنگر پولیس میں بڑا ایکشن، دو افسران کے خلاف سخت کارروائی،سابق ایس ایچ او نواز وٹو نوکری سے فارغ، ریاض بھٹی جبری ریٹائر

    بہاولنگر پولیس میں بڑا ایکشن، دو افسران کے خلاف سخت کارروائی،سابق ایس ایچ او نواز وٹو نوکری سے فارغ، ریاض بھٹی جبری ریٹائر

    بہاولنگر : بہاولنگر پولیس میں احتساب کا بڑا عمل شروع ہوگیا۔ ڈی پی او بہاولنگر محمد عمران نے فرائض میں غفلت اور ناقص تفتیش پر سخت کارروائی کرتے ہوئے تھانہ فورٹ عباس میں تعینات سب انسپکٹر نواز احمد وٹو کے خلاف بڑا ایکشن لے لیا۔ڈی پی او آفس سے جاری ہونے والے مراسلے کے مطابق سب انسپکٹر نواز احمد B/474 کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر اے ایس آئی کے عہدے پر تنزلی دی گئی اور انہیں نوکری سے فارغ کرتے ہوئے پولیس لائن بہاولنگر رپورٹ کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔سرکاری حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ نواز احمد پہلے OSI رپورٹ جمع کروائیں گے، جس کے بعد انہیں RI/LO پولیس لائن بہاولنگر رپورٹ کرنا ہوگا۔ متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ سرکاری وردی، اسلحہ اور دیگر سرکاری سامان فوری طور پر واپس لے کر تصدیقی رپورٹ پیش کی جائے۔

    ذرائع کے مطابق سابق SHO تھانہ صدر ہارون آباد اور موجودہ تعینات فورٹ عباس نواز وٹو کے خلاف کارروائی فیضان مظہر ملکیرہ کیس میں مبینہ ناقص تفتیش اور فرائض میں سنگین غفلت کے باعث عمل میں لائی گئی ہے۔اسی کیس میں ایک اور پولیس افسر ریاض بھٹی سب انسپکٹر کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے جبری ریٹائرمنٹ کی سفارش اور کارروائی کی گئی ہے، جس سے محکمہ پولیس میں کھلبلی مچ گئی ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی پی او بہاولنگر نے واضح پیغام دیا ہے کہ ناقص تفتیش، اختیارات کے غلط استعمال اور فرائض میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور ذمہ دار افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

    اس اچانک اور سخت کارروائی کے بعد ضلع بھر کے کرپٹ پولیس افسران میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ شہری حلقوں نے ڈی پی او بہاولنگر کے اس اقدام کو احتساب کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

  • چشتیاں: دومسلح گروپوں میں تصادم، گن مین کے مبینہ تشدد کی ویڈیووائرل، پولیس خاموش تماشائی

    چشتیاں: دومسلح گروپوں میں تصادم، گن مین کے مبینہ تشدد کی ویڈیووائرل، پولیس خاموش تماشائی

    چشتیاں: (خصوصی رپورٹ)  چشتیاں میں ہائی وے روڈ پر واقع اتفاق ٹریولز کے قریب دو مقامی گروپوں، گکھڑ گروپ اور نواز باجوہ گروپ، کے درمیان مبینہ طور پر جھگڑے اور تصادم کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔

    ذرائع کے مطابق تصادم کے دوران نواز باجوہ گروپ سے منسلک ایک گن مین پر الزام ہے کہ اس نے گکھڑ گروپ کے بعض ڈرائیوروں کو اسلحے کے زور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کی مبینہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں جھگڑے اور ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق اطلاع ملنے پر تھانہ اے ڈویژن چشتیاں کی پولیس موقع پر پہنچی، تاہم واقعے کے باوجود کسی فریق کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

    تاہم مقامی ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر ایک طاقتور مقامی سیاسی شخصیت کی مداخلت کے باعث پولیس کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لا سکی۔

    بعض حلقوں کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کی مداخلت کے نتیجے میں پولیس نے مذکورہ مسلح افراد کے خلاف کارروائی سے گریز کیا، تاہم اس حوالے سے متعلقہ حکام یا نامزد شخصیات کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

    واقعے کے بعد شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وائرل ویڈیو اور دستیاب شواہد کی روشنی میں غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی فرد کی جانب سے قانون شکنی یا تشدد ثابت ہو تو اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

    آخری اطلاعات تک مقامی یا ضلعی پولیس کی جانب سے واقعے کے حوالے سے کوئی باضابطہ ایف آئی آر یا تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔

  • چشتیاں میں مین ہول کے ڈھکن غائب، شہری خطرے کی زد میں، بلدیہ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت

    چشتیاں میں مین ہول کے ڈھکن غائب، شہری خطرے کی زد میں، بلدیہ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت

    چشتیاں: شہر کے وسط میں متعدد مقامات پر گٹروں کے ڈھکن عرصہ دراز سے غائب ہیں، جس سے راہگیروں اور گاڑیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اہل محلہ نے کئی بار بلدیہ انتظامیہ کو تحریری اور زبانی شکایات دیں، لیکن انتظامیہ ہر بار ان شکایات کو نظر انداز کرتی رہی۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کا رویہ کسی بڑے سانحے کی منتظر ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مین ہول کے ڈھکنوں کی حفاظت اور بروقت مرمت کے حوالے سے سخت ہدایات جاری کی تھیں، مگر چشتیاں کی بلدیہ انتظامیہ ان احکامات پر عملدرآمد سے انکاری ہے۔ شہری عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلدیہ چشتیاں میں مبینہ طور پر کرپٹ عناصر کی اجارہ داری ہے، اور بوگس بل (جعلی درخواستیں) تیار کیے جا رہے ہیں جس سے خزانے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

    شہریوں کا مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بلدیہ چشتیاں کا خفیہ آڈٹ کرائیں، اور کرپٹ ملازمین کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ساتھ ہی گٹروں کے غائب ڈھکنوں کو فوری طور پر بحال کرایا جائے تاکہ کسی ناگہانی حادثے سے بچا جا سکے۔

    فیصلہ کن اقدامات نہ ہوئے تو شہری احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے، مقامی شہریوں کا بیان

    واضح رہے کہ اس ضمن میں چیف سیکرٹری پنجاب اور کمشنر بہاولپور ڈویژن سے بھی شہریوں نے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

  • چشتیاں سفاری پارک میں کرنٹ لگنے سے نوجوان جاں بحق، انتظامیہ نے پارک سیل کر دیا

    چشتیاں سفاری پارک میں کرنٹ لگنے سے نوجوان جاں بحق، انتظامیہ نے پارک سیل کر دیا

    چشتیاں: چشتیاں سفاری پارک میں جھولے سے کرنٹ لگنے سے نوجوان جاں بحق ہوگیا، جاں بحق نوجوان کی شناخت محمد نوید کے نام سے ہوئی ہے، واقعہ بریک ہونے کے بعد سنو نیوز پر خبر نشر ہوئی تو انتظامیہ حرکت میں آگئی، ڈپٹی کمشنر بہاولنگر نے فوری نوٹس لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں اور چیف آفیسر بلدیہ چشتیاں کو ہدایت کی کہ سفاری پارک کو فوری طور پر سیل کیا جائے، جس پر عمل کرتے ہوئے انتظامیہ نے سفاری پارک کو سیل کردیا، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی ہیں، جاں بحق نوجوان کی لاش کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    سفاری پارک کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے، تفتیش جاری ہے، مزید رپورٹس آنے تک پارک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، شہریوں میں غم اور غصے کی لہر ہے، واقعے کے بعد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لاپرواہی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، ابھی مزید تفصیلات سامنے آرہی ہیں، تازہ ترین معلومات کے لیے چشتیاں ڈاٹ پی کے سے منسلک رہیں۔



  • چشتیاں شہر میں برساتی نالہ بند ہونے سے گندا پانی سڑکوں پر

    چشتیاں شہر میں برساتی نالہ بند ہونے سے گندا پانی سڑکوں پر

    مقامی انٹظامیہ کی عدم توجہی، اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں کو با قاعدہ درخواست دینے کے باوجود مسئلہ کے حل کے لئے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی

    چشتیاں: گلشن اقبال چوک کے قریب قاضی والا روڈ پر قائم برساتی نالہ بند ہونے کے باعث گندا پانی سڑکوں اور اطراف میں جمع ہونا شروع ہوگیا ہے، جس سے علاقے کے دکانداروں اور رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں کے مطابق تعفن اور گندگی کے باعث مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں جبکہ صورتحال روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے۔

    مقامی شہریوں نے انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ برساتی نالے کی صفائی نہ ہونے کے باعث گندا پانی نالے سے باہر نکل کر بازار اور رہائشی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد افراد پہلے ہی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ مزید لوگوں کے متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے ایک شہری نے مورخہ 30 اپریل 2026 کو اسسٹنٹ کمشنر اور بلدیہ حکام کو باقاعدہ درخواست بھی جمع کروائی تھی، تاہم 22 مئی 2026 تک اس پر کوئی عملی کارروائی نہیں کی گئی۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ نے درخواست کو نظر انداز کر دیا ہے۔

    شہریوں نے عیدالاضحیٰ سے قبل فوری صفائی آپریشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے “صاف ستھرا پنجاب” وژن کو عملی شکل دینے کے لیے ضروری ہے کہ نکاسی آب کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں تاکہ عوام کو بیماریوں اور بدبو سے نجات مل سکے۔