Tag: نعیم ثاقب

  • دوسری بار ۔۔ عثمان بزدار ؟؟۔۔۔نعیم ثاقب

    دوسری بار ۔۔ عثمان بزدار ؟؟۔۔۔نعیم ثاقب

    چہرے پر مسکراہٹ سجائے سادہ مگر پر اعتماد لہجے میں اس نے اعتراف کیا “ میں ٹرینڈ(تربیت یافتہ ) نہیں ہوں ابھی چیزیں سیکھ رہا ھوں “ ایک قہقہ لگا اور سب میڈیا پر شور مچ گیا ۔ شام کو ٹی وی پر اینکرز نے طنزیہ شو کیے ،صبح اخبارات میں مزاحیہ خبریں چھپیں ،سوشل میڈیا پر میمز بنی ، مگر وہ چپ چاپ سیکھتا رہا ۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کسی چیز کے بارے میں کم علمی کا یہ اعتراف کمزوری نہیں ایک طاقت ہوتی ھے جو “ میں نہیں جانتا” کی سرگوشی کو “میں کر کے دکھاؤں گا” کے عزم میں بدل دیتی ھے ۔ بقول مشہور یونانی فلسفی سقراط کے “ میں اس وقت دنیا کا سب سے عقلمند آدمی ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔
    جدید سائنسی ریسرچ کے مطابق عقلمند اور ذہین لوگوں کی دیگر نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ھے کہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں کس چیز کا علم اور کس سے ناواقف ہیں اوروہ اس کا اعتراف کرنے میں بلکل بھی نہیں ہچکچاتے۔یہ باعمل افراد ھوتے ہیں جن کی ڈکشنری میں کمتری کا احساس ، لاعلمی کا خوف اور ناکامی کا ڈر جیسے الفاظ نہیں ھوتے ۔ اکثر لوگ اس بارے میں علطی کا شکار ہیں اور سمجھتے ہیں کہ غیر معمولی ذہین وہ ہوتے ہیں جن کے پاس ہر طرح کا علم ہوایسا بلکل بھی نہیں ! بلکہ اصل ذہین وہ ھوتے جو اپنی کم علمی کو چھپانے کے لیے بے تکے دلائل کی بجائے کھلے سے تسلیم کر کے اپنی معلومات بڑھانے کے لیے سرگرم ھو جاتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ لاعلمی کا اعتراف بھی ایک علم ہے ۔ علم خواہ کتنا بھی ہو وہ قلیل اور تھوڑا ہی ہے، مکمل اور پورا ہر گز نہیں قرآن کریم میں ہے:
    ’’وما اوتیتم من العلم الا قلیلاً‘‘(الاسراء ۱۷ ،آیت ۸۵)
    اور تمہیں تھوڑا ہی علم دیا گیا ہے۔
    اس ارشاد کو سننے کے بعد کوئی مسلمان یہ دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کے ذہن میں یہ خیال آنا چاہیے کہ میں سب کچھ جانتا ہوں، یہی وجہ ہے کہ بغیر تحقیق اور علم کے کوئی بات بتانا گناہ ہے ۔
    بات ہو رہی تھی پنجاب کے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی جو انتیس جنوری ۲۰۱۹ کو ملتان پولیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں کانسٹیبلز کے 57 ویں ریکروٹ کلاس کورس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ میں بطور مہمان خصوصی شریک ھوئے آئی جی پنجاب کے سلیوٹ کرنے پر ہاتھ ملائے بغیر آگے بڑھ گئے تو اس واقعہ پر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ “ابھی سیکھ رہا ھوں “ اور پھر واقعی ہی وہ اپنی دھن میں سیکھتا چلا گیا۔ اور وہ کچھ سیکھ گیا جو بہت سارے لیڈر اپنے علم کے زعم اور تجربے کے غرور میں نہ سیکھ سکے ۔ سوشل میڈیا جو عثمان بزدار کا مذاق اڑاتا تھا اس کی میمز بناتا تھا وہی اس کی کارکردگی اور نام کے ٹاپ ٹرینڈ چلا رہا ہے ۔جس کی مثال عیدالضحٰی پر صفائی مہم کی پزیرائی ہے پنجاب کے عوام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹو یٹر پر “ صاف پنجاب شاباش بزدار “ کے ہیش ٹیگ سے اسے ٹاپ ٹرینڈ بنا دیا۔وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے بعد عثمان بزدار نے یقیناً بہت سیکھا مگر اب تمام حکومتی مشینری کو خود سکھا بھی رہے ہیں ۔
    انہوں نے سکھایا ھے کہ کس طرح وزیراعلیٰ آفس کے اخراجات کم کیے جاتے ہیں 18-2017 میں وزیراعلیٰ آفس کے مجموعی اخراجات 3 کروڑ 86 لاکھ روپے تھے جبکہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے دور میں مالی سال 21-2020 میں وزیراعلیٰ آفس کے مجموعی اخراجات 14 کروڑ 41 لاکھ روپے رہے۔ 2017-18 میں گاڑیوں کی مرمت پر چار کروڑ 24 لاکھ روپے کے اخراجات ہوئے جو موجودہ دور میں کم ہو کر ایک کروڑ 50 لاکھ روپے رہ گئے۔سابقہ دور میں گاڑیوں کے ایندھن کی مد میں تین لاکھ 72 ہزار لیٹرتیل استعمال ہوا جبکہ عثمان بزدار دور میں یہ ایندھن کم ہو کردو لاکھ 25 ہزار لیٹر رہ گیا۔پچھلی حکومت نے انٹرٹینمنٹ اور تحائف کی مد میں آٹھ کروڑ 99 لاکھ 91 ہزار روپے خرچ کیے گئے، عثمان بزدار دور میں اس پر چارکروڑ 40 لاکھ روپے کے اخراجات ھوئے ۔ قوی یقین ہے کہ عثمان بزدار یہ بھی سیکھ چکے ہیں کہ اچھی کارکردگی اور بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے سزا جزا (carrot and stick) کی پالیسی بہت ضروری اسی لیے تو انہوں نے جہاں ایک طرف صفائی آپریشن احسن طریقے سے مکمل کرنے پر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سمیت تمام اضلاع کی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا اور عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے سکیورٹی کے بہترین انتظامات پر عید ڈیوٹی کرنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کو شاباش دی۔تو دوسری طرف 8گھنٹوں میں 6 شہرو ں کے طوفانی دورے کرنیوالے وزیراعلیٰ نے فرائض سے عفلت برتنے والے افسران ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل آغا محمد علی عباس اور ایڈیشنل ایس پی کینٹ ڈویژن ملتان کامران عامر خان کوعوامی شکایت پر عہدوں سے ہٹا کر یہ پیغام دیا بھی ھے کہ وہ سرکاری فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی قطعاً برداشت نہیں کریں گے۔
    سردار عثمان بزدار رول 17۔اے کے تحت دوران سروس انتقال کرنے والے سرکاری ملازمین کے لواحقین ملازمت کا قانونی حق دینا ،
    ‎پنجاب پولیس کے تھانوں میں فرنٹ ڈیسک کے لگ بھگ تین ہزار ملازمین کو ریگولر کرنا ، کسانوں کے لیے پنجاب میں پہلی بار مصنوعی زرعی پالیسی متعارف کروانا ، جیلوں کے نظام میں بہتری لانا چھ یونیورسٹیاں قائم کرنا اور نو یو نیورسٹیاں کی منظوری دینا ۔ڈیرہ غازی خان ، سیالکوٹ، میانوالی،راجن پور، لیہ، اٹک، بہاولنگر میں مدراینڈ چائلڈ اسپتال قائم کرنا ۔32 ہزار ڈاکٹراور پیرا میڈیکل اسٹاف بھرتی کرنا، ملتان میں نشتر ٹو،رحیم یار خان میں شیخ زید ٹو اور ڈیرہ غازی خان میں کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ بنانا ، لاہور میں راوی ریور اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ اور سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کی طرز کے گیم چینجر منصوبے تشکیل دینا سیکھ چکے ہیں تو کیا اس میں کوئی شک ہونا چاہیے کہ دوسری بار بھی عمران خان اپنے اس با اعتماد اور تجربے کار کھلاڑی کو پنجاب کی ٹیم سونپیں گے ؟ ؟؟

  • احتساب سے مستثنیٰ لوگ ۔۔۔ نعیم ثاقب

    احتساب سے مستثنیٰ لوگ ۔۔۔ نعیم ثاقب

    ہماری زندگی میں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے لیے دماغ کے کٹہرے میں بے لاگ،کڑے، شفاف اور حتمی احتساب کا مقدمہ نہیں چلاتے بلکہ دل کی عدالت سے ان کی غلطیوں‘ خامیوں، نادانیوں اور چھوٹی موٹی چالاکیوں کو ہر مواخذے سے استثنیٰ دے دیاکرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے اپنے دماغ کے کمپیوٹر کا سی پی یو بند کرنا پڑتا ہے اوران کو صحیح غلط، اچھے برے اور جمع تفریق کے حساب کتاب سے الگ رکھنا پڑتا ہے۔تب ہی رشتے نبھتے اور تعلق پروان چڑھتے ہیں۔ ورنہ خونی رشتے بھی وقت سے پہلے اپنی موت مر جاتے ہیں، مرشد کہتے کہتے رکے اور میری طرف دیکھا اوربولے لالے کیا تمہیں پتہ ہے یہ کونسے لوگ ہیں؟ یہ ہمارے قریبی رشتے دار ہیں اور ان کے ساتھ اللہ صلہ رحمی کاحکم دیتاہے اور اس کا بڑا اجر ہے۔ یہاں تک کہ اللہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرنیوالوں کا رزق اور عمر تک بڑھا دیتا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادمبارک ہے۔
    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اوراس کی عمردراز ہو تو وہ صلہ رحمی کیا کرے۔(صحیح بخاری)
    ان لوگوں کے لیے جو پوچھتے ہیں اور نہیں جانتے کہ مرشد کون ہے تو بتاتا چلوں کہ مرشد کانام نوید کاشف ہے تعلیم انجینئر نگ اور قانون،شوق کتابیں اور انسان پڑھنا، پیشہ سول سروس اور اب ایک بڑے میڈیا گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر، رشتے میں میرے ہم زلف! اور تعلق میں بے تکلف دوست، بھائی،راہبر اور مرشد! – یہ ان کا مختصر سا تعارف ہے ورنہ جو لوگ ان کو جانتے ہیں ان کو پتہ ہے کہ ان کی شخصیت پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔
    خیر حسب روایت عید کے روز مرشد نے زبردست عشائیے کا اہتمام کیا تھا۔ لان کاڈیکور لائیٹنگ اور لائیو بار بی کیو وغیرہ کو دیکھ کر کسی خاص مہمان کے لیے بڑے فنکشن کاگمان ہو رہا تھا پر مہمان اور کھانے والے صرف ہم سب فیملی ممبرز ہی تھے۔ حسب عادت مرشد سب کو فرداً فرداً اصرار کرکے کھلا رہے تھے۔ یہ صرف آج ہی کی بات نہیں تھی مرشد گذشتہ کئی سالوں سے اسی طرح حیلے بہانوں سے دعوت کا اہتمام کرکے سب کواکھٹا کرتے زبردستی ہر چیز کھلاتے اپنے ہاتھوں سے منہ میں نوالے ڈالتے، محبت اورمہمان نوازی کے ثواب سمیٹ رہے ہیں پہلے ہر اتوار لاہور کے بڑے کنٹری کلب میں برنچ کے لیے بلاوہ آتا تھا اور اب اللہ نے پوش علاقے میں بڑا گھر دیا ہے تو روٹین پھربھی وہی ہے جب موقع ملتا ہے سب کو اکھٹا کرنے کے لئے کھانے پر اس محبت سے بلاتے ہیں کہ انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مرشد یقینا اللہ کے ساتھ”لگا کر بچانے والا“ کاروبار کر کے بے تحاشہ منافع کما رہے ہیں اور اس کمائی کو اپنے ہاتھوں سے خر چ بھی کر رہے ہیں بقول مرشد جو پیسہ خود کمایا ہے اسے خرچ بھی خود کریں اور وہ بھی اللہ کی رضا کے لیے دوسروں پر ورنہ کیا معلوم بعد والے آپ کی کمائی کا کیا کریں۔
    کھانے کے بعد حسب معمول میں اور مرشد واک کے لیے نکل پڑے۔گپ شپ کے دوران میں نے کہا مرشد ارد گرد بالکل سناٹا ہے آج لگ ہی نہیں رہا کہ عید ہے۔ لگتا ہے ہر کوئی اپنے اپنے گھر میں عید منا رہا ہے شاید اکھٹے عید منانے کا رواج ختم ہوتا جا رہاہے۔ مرشد کہنے لگے یار تیری بات کسی حد تک ٹھیک ہے۔ ماں باپ زندہ ہوں تو اکھٹے ہونے کی وجہ ہوتی ہے مگر جب چلے جائیں تو خاندان بکھر جاتا ہے۔ اگر خاندان کو اکٹھارکھنا ہے تو کسی ایک کو بڑا بننا پڑتا ہے کسی ایک کو قربانی دینی پڑتی ہے۔ خود دھوپ رہ کر سب کو چھاؤں دینے والا درخت بننا پڑتا ہے۔ اپنی خواہشیں قربان اور دوسروں کی خواہشوں کا احترام کرنا پڑتا رشتے نبھانے کے لئے بے کار کی ضد،جھوٹی انا کو چھوڑنا،رویوں کو برداشت اور شکوے شکائتیں کو دور کرنا پڑتا ہے اور پھر جب یہ سب آپ دکھاوے اور خودنمائی کی بجائے اللہ کی رضا کے لیے کرو تو مالک اس کا بے حساب اجردیتا ہے اور مجھے تو رشتے جوڑنے کی وجہ سے مالک نواز رہا ہے اور میرے رزق میں اضافہ کر رہاہے۔ مرشد کچھ رشتے دار ایسے بھی ہوتے ہیں کہ آپ کے حسن سلوک کے باوجود آپ سے اچھا سلوک نہیں کرتے تو کیا کرنا چاہیے؟ میں نے پوچھا! مرشد نے قہقہلگایا اور کہنے لگے یہی تو اصل امتحان ہے بہت سے رشتے دار ہمیں پسند نہیں کرتے کسی کے ساتھ ہمیں اختلاف ہوتا ہے مگر بہت کچھ نظرانداز کرکے تعلق جوڑے رکھنا پڑتا ہے یہی صلہ رحمی ہے اوراسی کا حکم دیا گیا ہے۔
    جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے:
    ترجمہ: ”صلہ رحمی کرنے والا شخص وہ نہیں ہے جوبرابر کا معاملہ کرتا ہے بلکہ اصل رحم کرنیوالا شخص وہ ہے کہ جب اس کی رشتہ داری قطع کی جائے تو وہ اسے ملائے۔“(بخاری: 5991)
    سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی اکرم ؐ نے بیان فرمایا:
    ”کوئی گناہ ایسا نہیں کہ اس کا کرنے والا دنیا میں ہی اس کا زیادہ سزا وار ہو اور آخرت میں بھی یہ سزا اسے ملے گی سوائے ظلم اور رشتہ توڑنے کے۔“
    (رواہ ابو داؤد وصححہ الالبانی)
    مرشد بول رہے تھے اور میں ان کے ساتھ چلتے چلتے ضمیر کی عدالت میں اپنا محاسبہ کرتے سوچ رہا تھا کہ آج تک میرے دل کی عدالت سے کتنے لوگوں کو ان کی معمولی غلطیوں،خامیوں ،نادانیوں اور چھوٹی موٹی چالاکیوں کے احتساب سے استثنیٰ ملا ہے؟ ہم دوسروں کی معمولی سے معمولی غلطی پرمحتسب بن جاتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ جس دن مالک کائنات نے ہمیں کٹہرے میں کھڑا کر لیا توحساب دے پائیں گے کیا؟؟؟

  • تسلیم و رضا کا کھیل ۔۔۔۔ نعیم ثاقب

    تسلیم و رضا کا کھیل ۔۔۔۔ نعیم ثاقب

    مجھ سمیت چار لوگ حامد کے گھر  بیٹھے بزنس ، حالات حاضرہ اور دیگر موضوعات پر گپ شپ کر رہے تھے ۔ حامدایک  ملٹی نیشنل کمپنی کا نوجوان ڈائریکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ  ایک مکمل  پروفیشنل اور بے حد پریکٹیکل  آدمی ہے۔ اس نے مجھے اور ارسلان کو گھر  کھانے  پہ بلایا تھا ۔اور یہاں تقریباً پنتالیس سالہ بڑھی  شیو  والے اس اجنبی شخص سے میری پہلی  ملاقات تھی ۔ دو گھنٹے میں  نا اس نے مجھ سے میرا نام پوچھا اور نہ ہی میں نے  اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کی ۔  ہم تینوں نے اپنی نئی پراڈکٹ  کی لانچنگ ،  مارکیٹنگ پلان اس کے مثبت و منفی پہلوؤں پر تبادلہ خیال شروع کیا تو وہ خاموش بیٹھا ہماری باتیں سن رہا تھا ۔ میں نے اس کو گفتگو میں شامل کرنے کی غرض سے پوچھا سر آپ کیا خیال ہے ؟۔بڑھی شیو والا اجنبی مسکرایا اور کہنے لگا حامد اپنی کمپنی کا بڑا زبردست ورکر ہے ۔یہ جس ملک کے آفس کی ذمہ داری سنبھالتا ھے، اس کی کارکردگی بڑھ جاتی ھے۔یہ محنتی اور اپنے کام سے بے حد مخلص ہے۔ آفس کے معاملے میں یہ کسی رشتہ دار ، دوست یا مالی فائدے کی پرواہ نہیں کرتا اس کی اولین ترجیح اس کی کمپنی کا مفاد ہوتا ھے ۔ اسی لیے یہ اپنی کمپنی میں مقبول ہے اور اس کا گورا سی ای او بھی اس کی بات نہیں ٹالتا ۔ایسے ہی ہے نا ؟۔ اس نے سوالیہ انداز میں پوچھا ۔ بالکل میں اور ارسلان بیک وقت بولے ۔ آپ دونوں ، اور بہت سے لوگ بھی ایسے ہی ھونگے مگر سوال تو یہ ھے کہ اصل کام میں ہم کتنے پرفیکٹ ہیں ؟۔اصل کام میں ہماری کارکردگی کیا ہے ؟ اجنبی کہنے لگا ۔ سر  یہ پچاس ساٹھ سالا زندگی کی حیثیت تو کچھ بھی نہیں اصل کھیل تو بعد کا ھے جو مستقل اورکبھی نہ ختم ھونے والا ہے۔وہاں اچھی پرفارمنس کیس کی ہوگی یہ سوچنے کی بات ہے۔ اور وہاں سرخرو صرف وہی ہونگے جو یہاں راضی بہ رضا ہیں اور ان لوگوں کے بارے میں خود مالک ان آیات مبارکہ میں فرماتا ھے (1) ’’ اور لوگوں میں سے ایک شخص ایسا ہے ‘جو اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کا سودا کر لیتا ہے‘ ‘(بقرہ : 207)۔ (2) ’’بے شک اللہ نے اہلِ ایمان سے اُن کی جانوں اور مالوں کو جنت کے عوض خرید لیا ہے ‘ وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں ‘ پس مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں ‘ اللہ کااس پر تورات ‘ انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدے کو پورا کرنے والا کون ہے ‘ سو تم اپنے اس سودے پر‘جو تم نے اللہ سے کیا ہے‘خوشی مناؤ اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے‘ ‘ (توبہ : 111)۔جب بندے کو” تسلیم و رضا“ کا کھیل سمجھ میں آجائے تو نمرود کے سامنے ڈٹ کر آگ کی بھی پرواہ نہیں  کرتا ۔ محبوب بیوی اور کمسن لخت جگر کو صحرا بیابان میں تنہا چھوڑ آتا ہے۔ بندہ اللہ کی رضا کے لیے بیٹے کو قربان کرنے کےُلیے تیار ہو جاتا ہے ۔ پھر یہ تو ممکن ہی نہیں مالک کائنات بندے کو اطاعت و رضا کا صلہ نہ دے ۔ وہ اپنے بندے کے لیے آگ کو گلزار بنا دیتا ہے ۔ بیٹے کی پیاس بجھانے کی خاطر دو پہاڑوں کے درمیان دوڑنے والی ماں کے عمل کو رہتی دنیا تک مثال بنا دیتا ہے ۔ اور جب خلیل اللہ ذبح سے فارغ ہوکر آنکھوں سے پٹّی ہٹاتاہے تو مالک بیٹے کی جگہ ایک حَسین مینڈھا لٹا دیتا ھے جب کہ ذبیح اللہ قریب کھڑا مُسکرا رہا ہوتا ھے ۔ اور خدا یوں فرماتا ہے ۔’’اے ابراہیمؑ! تم نے اپنا خواب سچّا کر دِکھایا۔ بے شک، ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں‘‘، سورۃ الصٰفّٰت،اور جب باپ تسلیم و رضا کے مقام پر پہنچ جاتاہے تو مالک اولاد بھی ایسی سعادت مند بنادیتا ھے جو خوشی خوشی ذبیح ھونے کو تیار ہو جاتی ھے اور قرآن میں اس کا ذکر آتا ہے ۔ ترجمہ: (حضرت)اسمٰعیل علیہ السلام نے کہا،ابّا جان! آپ کو جو حکم دیاجارہا ہے اسے کر ڈالئے۔ آپ انشاء اللہ مجھے صابروںمیں پائیں گے۔ (سورۃ الصٰفّٰت آیت 1)اور اللہ ربّ العزّت کو اپنے دونوں برگزیدہ اور جلیل القدر بندوں کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ اسے اطاعت، عبادت اور قربِ الٰہی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے قیامت تک کے لیے جاری و ساری فرمایا۔
    چناں چہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’ اور ہم نے بعد میں آنے والوں کے لیے ابراہیمؑ کا ذکر (خیر باقی) چھوڑ دیا (سورۃ الصٰفّٰت، 108:37)۔بڑھی شیو والا اجنبی بولتے ہوئے رکا تو میں جانے کی اجازت مانگی کہ قربانی کے لیےجانور لینے جانا ھے مشورہ دیں کونسا جانور لوں۔ اس پر اجنبی نے جواب دیا اس کا تو مجھے کوئی بہت تجربہ نہیں البتہ حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں : ’’رسولِ کریمؐ  سے عرض کیا کہ کن جانوروں کی قربانی سے بچنا چاہئے تو آپؐ نے ہاتھ کے اِشارے سے فرمایا: کہ چار قسم کے جانور قربانی کے لئے دُرست نہیں ہیں۔ (1)  جس کا لنگ ظاہر ہو‘ (2)  جس کا کانا پن ظاہر ہو‘ (3) ‘ جس کی بیماری ظاہر ہو اور (4) اَیسا لاغر جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو ،ہڈیوں کا پنجرہو۔  امیر المومنین حضرت سیّدنا علیؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں رسولِ کریمؐ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم (قربانی کے جانور کی) آنکھ اور کان دیکھ لیں۔ نہ لمبائی میں چرے کان کی قربانی کریں اور نہ چوڑائی میں کٹے جانور کی قربانی کریں۔ (اِس میں زیادہ کا اِعتبار ہے، اگر آدھے سے کم چرا اور کٹا ہے تو قربانی ہو جائے گی۔  نبی کریمؐ  نے ٹوٹے سینگ اور کٹے کانوں والے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا۔ (سینگ سے مُراد خول نہیں بلکہ خول کے نیچے گُلی یا مغز ہے۔ اگر مغز پورا ہے تو قربانی جائز ہے۔ اگرچہ خول ٹوٹا ہو)۔(ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، مؤطا اِمام مالک، مشکوٰۃ، دارمی مسند احمد، شرح السنۃ، السنن الکبریٰ للبیہقی)

  • عثمان بزدار ناقابل شکست کیوں ؟۔۔۔تحریر: نعیم ثاقب

    عثمان بزدار ناقابل شکست کیوں ؟۔۔۔تحریر: نعیم ثاقب

    بھائی جان! تمام اپوزیشن جماعتیں ملکر زور لگالیں، بے شک پی ٹی آئی کے کچھ ارکان اور اتحادی جماعتیں بھی مخالف ہو جائیں،سب طاقتیں اکھٹی ہو جائیں۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتے۔پچھلے تین سالوں سے ہر چوتھے دن یہ خبر سننے کو ملتی ہے کہ عثمان بزدار جارہا ہے۔ نا وہ گیا ہے اور نہ ہی اسے کوئی بھیج سکتا ہے۔کیونکہ جو کچھ اس کے پاس ہے۔وہ مدمقابل سیاستدانوں کے پاس نہیں ہے۔ میاں صاحب بے حد اعتماد اور یقین سے بات کر رہے تھے۔ میاں صاحب رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرتے ہیں، حقیقت پسند اورباکمال انسان ہیں۔ زندگی کی اونچ نیچ کو سمجھتے ہیں۔ رکھ رکھاؤ، وضع داری اور دوستوں کوعزت دینا جانتے ہیں۔بہت زیادہ پریکٹیکل باتیں کرتے ہیں،شاید اس لیے کہ انہوں نے غربت کے دکھ اور خوشحالی کے سکھ دونوں کو دیکھا ہے۔ شیخ صاحب اور میری ان سے چار بجے کی ملاقات طے تھی۔ہم تقریباً دو گھنٹے لیٹ پہنچے، ملازم نے سجے سجائے ڈرائنگ روم میں بیٹھا دیا ُکہ میاں صاحب میٹنگ میں مصروف ہیں۔ پانچ دس منٹ انتظار کے بعد اپنی وضع داری کا ثبوت دیتے ہوئے،میاں صاحب آئے اور ہمیں فرسٹ فلور پر واقع اپنے آفس لے گئے۔چائے کے دوران گپ شپ کا سلسلہ شروع ہوا، تو میں نے پوچھا میاں صاحب! آپ کی کامیابی کا کیا راز ہے؟۔
    میاں صاحب مسکرائے اور کہنے لگے۔“دعا اور صرف دعا“ میں اللہ سے اچھا نصیب اور اس کا فضل مانگتا ہوں۔ بھائی جان! میں تو ہوٹل میں ایک ویٹر تھا۔ بہت پڑھا لکھا اور عقلمند بھی نہیں ہوں۔ پھر آج جو کچھ میرے پاس ہے، وہ نصیب نہیں تو اور کیا ہے؟۔ سارا کھیل مقدر اور نصیب کا ہے۔یہ نصیب ہی ہے،جولوگوں کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے حالانکہ ان کے کام عقل سے نہیں ہو رہے ہوتے، یہ ان کی تقدیر ہوتی ہے جو ان کے کام سنوار رہی ہوتی ہے۔بعض اوقات سفر سے تاخیر کسی اچھائی کا سبب بن جاتی ہے۔شادی میں تاخیر کسی برکت کا سبب بن جایا کرتی ہے۔اولاد نہیں ہو رہی، اس میں بھی کچھ مصلحت ہوا کرتی ہے۔نوکری سے نکال دیا جانا ایک با برکت کاروبار کی ابتدا بن جایا کرتا ہے۔جیسے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہواور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لیے بری ہواللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے“ (سورۃ البقرۃ – 216) —ستمبر 2018 سے پہلے کون سوچ سکتا تھا کہ کوئی عثمان بزدار وزیراعلی بنے گا ؟ شاید خود عثمان بزدار کو بھی گمان تک نا ہو کہ وہ پنجاب کا سلطان بن سکتا ہے ،بھائی میں اسی لیے سب سے کہتا ہوں، اللہ سے دولت اور علم مت مانگواچھا نصیب مانگو۔میاں صاحب بول رہے تھے اور میں دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کے بارے میں سوچنے لگا۔ جس میں بڑے پیسے والے،سیاسی قد کاٹھ والے، پرانی رفاقت، پارٹی کے لیے دولت لٹانے والے بین الاقوامی تعلقات رکھنے والے نام وزیراعلیٰ بننے کے امیدوار تھے، مگر یہ سب“مقدر والے بزدار“ کے سامنے ناکام ہوگئے۔ دولت، رفاقت، مہارت اور پرانی سیاست کسی کا کچھ بھی کام نہ آیا۔
    نصیب نے فتح کا”ہما“ عثمان بزدار کے سر پر بیٹھا دیا۔ اس عثمان بزدار کے سر پر جس کو سابق وزیراعلیٰ شاید ملنے کا وقت بھی نہ دیتا ہوں آج وہ”مقدر کا سکندر“ اسی وزیر اعلیٰ کے تخت پر بیٹھا ہے۔ اس کے مقدر نے سب سے طاقتور امیدوار شاہ محمود قریشی کو پچیس سالہ نومولود سیاست دان سلیمان نعیم کے ہاتھوں شکست دلوائی۔ علیم خان کی پارٹی کے لیے کی گئی انویسٹمنٹ بھی بے کار گئی۔ سابقہ اپوزیشن لیڈرمحمود الرشید، یاسمین راشد، چوہدری سرور، اسلم اقبال سب کی وزیراعلیٰ بننے کی کوششیں اور خواہشیں عثمان بزدار کے نصیب کے سامنے بے بس نظر آئیں اور اب یہی حال ان کو ہٹانے والوں کے ساتھ ہوا۔ عزت اور ذلت دونوں خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ چاہے تو غنی کو فقیر کر دے یا فقیر کو بادشاہ بنا دے، سب اس کے ہاتھ میں ہے۔سورۃ ال عمران کی آیت نمبر 26 ”آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں،بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔اللہ جس کو ذلیل کردے، اسے دنیا کی کوئی طاقت عزت نہیں دے سکتی اور جس مقدر والے کو مالک نواز دے اس سے کوئی چھین نہیں سکتا۔یہ اس کی عطا ہے اور اسی کا ہی کرم ہے۔ اسی لیے سمجھ دار لوگ رب سے دولت اور شہرت اور علم مانگنے کی بجائے نصیب مانگتے ہیں۔ پشتو کے ولی شاعر رحمان بابا کا ایک شعر ہے رحمان تخت مہ غوارہ، بخت غوارہعقل مند دہ بختیالانو غلامان دہتخت مت مانگو، بخت مانگو اے رحماناکثر عقل مند قسمت والوں کے غلام ہوتے ہیں۔

  • ہر’’طاہر‘‘ کی وردی کو سلام ۔۔۔تحریر: نعیم ثاقب

    ہر’’طاہر‘‘ کی وردی کو سلام ۔۔۔تحریر: نعیم ثاقب

    لاہور جوہر ٹاون میں جیسے ہی دھماکے کی خبر سنی میں نے تصدیق کے لیے موبائل کھولا تو واٹس ایپ پر میرے سامنے ایک تصویر آئی،جس میں ایک باوردی پولیس کا جوان دکھائی دیا جس کا کندھا بری طرح زخمی تھا، وردی خون میں لت پت تھی۔کندھے کا سارا گوشت اس کے سینے پہ میڈل کی طرح سجا ہوا تھا۔یہ جوان سٹیل کا مگ ہاتھ میں لیے کرسی پر بیٹھا آرام سے پانی پی رہا تھا۔ اس کے چہرے پر زخموں کی تکلیف کی بجائے فرض کی ادائیگی کے بعد دشمنوں کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دینے والا اطمینان تھا۔ اس کی آنکھوں میں اس زخمی شیر کی چمک تھی جو دشمن پر دوبارہ جھپٹنے کے لیے تیار بیٹھا ہو۔ اس کی گہری خاموش نگاہوں میں جھانکا تو احمد فراز کے شعر یاد آگئے۔کب یاروں کو تسلیم نہیں، کب کوئی عدو انکاری ہےاس کوئے طلب میں ہم نے بھی دل نذر کیا جاں واری ہےجب ساز سلاسل بجتے تھے، ہم اپنے لہو میں سجتے تھےوہ رِیت ابھی تک باقی ہے، یہ رسم ابھی تک جاری ہےاس کے خون آلودہ بیج پر نظر پڑی تو طاہر لکھا تھا غور سے دیکھا تو آ ہنی حوصلوں کا مالک یہ طاہر مجھے اپنا اپنا اور دل کے بہت قریب لگا۔
    کبھی یہ طاہر پاک سر زمین کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہو ئے بلوچستان کے ضلع سبی میں ایف سی کی وردی پہنے ہوئے حوالدار ظفر علی خان، لانس نائیک ہدایت اللہ، لانس نائیک ناصر عباس، لانس نائیک بشیر احمد اور سپاہی نور اللہ کے نام سے شہید ہوتا ہے تو کبھی ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن سید احمد مبین کے روپ میں اپنے آپریٹر محمد امین کے ہمراہ مال روڈ پر خودکش حملے میں جام شہادت نوش کرتا ہے تو کبھی ائیر فورس کی وردی میں راشد منہاس کی شکل میں طیارہ گرا کر دشمن کے ارادوں کو خاک میں ملاتا نظر آتا ہے تو کبھی فوج کی وردی پہنے میجر عزیز بھٹی، لانس نائیک محفوظ، میجر طفیل، سوار محمد حسین اور ہر شہید کی طرح دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنا نظر آتا ہے۔ مجھے یہ وہی طاہر لگا جو 1965 میں لڑا، جو سیاچین میں لڑاجو ضرب عضب میں لڑا۔ جو وردی پہنے کشمیر میں لڑ رہا ہے، بلوچستان میں لڑ رہا ہے، فاٹا میں لڑ رہا ہے، مجھے یہ وہی وردی لگی جو کہہ رہی تھی دہشت گردوں تم پھر ناکام ہو گے جب تک ہمارے جیسے بیٹے اس دھرتی پر موجود ہیں جب تک ان بیٹوں کی شہادت کی خبر سن کر الحمداللہ کہنے والی مائیں زندہ ہیں، تم کو ہم اس چمن کو میلا نہیں کرنے دے گے۔طاہر کے چہرے کا سکون اور اطمانیت دیکھ کر میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اسی کا نام ہی تو جذبہ ایمانی ہے جو اتنی تشویشناک حالت کے باوجود اسے ڈیوٹی سے غافل نہیں ہونے دیتا اور عقابی نگاہیں اب بھی ہر طرح کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں اور للکا ر کہہ رہی ہیں چھپ کر وار کرنے والے یہ بیٹھا ہے اس پاک کلمہ کی بنیاد پر پاک وطن کا رکھوالا جب تک یہ پاک سر زمین ہے ۔
    اس میں ہماری پاک بہنیں بیٹیاں ہیں،تم ناپاک یہاں نہیں آسکتے کیوں کے یہاں وردی پہنے پاک بیٹھا ہے طاہر بیٹھا ہے اور طاہر کا مطلب ہے پاک اور جہاں پاک ہے وہاں ناپاک کیسے آئے گا۔ کیوں ناپاک کو مٹانے کے لیے ہی تو پاک آتا ہے۔سرخ سلام ہے اس جوان کو جو اتنا زخمی ہونے کے باوجود ایمبولینس میں لیٹا ہوا نہیں ہے بلکہ سینہ تان کر میدان میں موجود ہے۔پچھلے 16سالوں میں میرا زندہ دلان لاہور 27مرتبہ دہشت گردی کا نشانہ بنا ہے۔ جن میں خود کش بم حملے اور بم دھماکے شامل ہیں۔دہشت گردوں نے کئی مرتبہ کوشش کی ہے کہ اس شہر کی روشنی چھین لی جائے مگر چھین نہ سکے کیوں کہ یہاں پاک موجود ہیں۔30 کلو بارود بھی اس طاہر کی پاک وردی کو میلا نہ کر سکا یہ وہ لوگ ہے جو یہ بات بڑی بخوبی سمجھتے ہیں کہ ہم اس دنیا میں بہت کم وقت کے لیے آئے ہیں اور ہماری منزل شہادت ہے۔ اس جوان کی ایک جھلک نے یہ منصوبہ ناکام بنا دیا ہے کیونکہ دہشت گردی کی تعریف کے مطابق دہشت گردی کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے خوف وہراس پھیلانا دہشت کی فصاء قائم کرنا طاہر کی بیباک تصویر دیکھ کر یقینا منصوبہ بنانے والے دہشت گرد سوچ رہے ہوں گے ہم ناکام ہوں گے ہمارا بارود ناکام ہوگیا ہمارے منصوبے ناکام ہوگے اس پولیس کے جوان طاہر کی ایک جھلک کی وجہ سے، جس کاآدھے سے زیادہ جسم کا حصہ چھلنی ہے اور بیٹھا سکون سے پانی پی رہا اور اپنے باقی ہم وطنوں کو سوچ دے رہا کیسا خوف ہم ہے ناں یہاں آپ کے لیے ہم خالد بن ولید کے جانشین ہیں ہم میدان کو کیسے چھوڑ سکتے ہم موت سے کیسے ڈر سکتے ہیں موت تو ہمارے لیےاللہ پاک سے ملاقات کا خوبصورت بہانہ ہے اور پیغام دئے رہا ہے کہ اس ملک کو بنانے میں اور بچانے میں کئی طاہر شہید ہوئے ہیں۔
    لیکن نہ پاکستان بنانے والوں کا خون رائیگاں جائے گا اور نہ بچانے والوں گا۔ یہ چمن یونہی سدا مہکے گا۔طاہر کے بیٹھنے کا انداز بتاتا ہے کہ وہ جان گیا ہے کہ اس فانی دنیا میں اس کی پروموشن ہو نا ہو پاک عرش والے کے ہاں اس کی پروموشن ہوگئی ہے۔خون میں ڈوبی اور پسینے میں بھیگی ہر طاہر کی وردی کو بائیس کروڑ عوام کا سلام تین معصوم بچوں کا شیردل باپ اب تک کی خبروں کے مطابق شدید زخمی حالت میں ہے اور اسکو وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے۔پوری پاکستانی قوم سے درخواست ہے طاہر کی صحتیابی کے لیے دعا فرمائیں۔