Tag: بہاولنگر

  • بہاولنگر:اینٹی کرپشن سے نکالے جانے والے اہلکار کی پولیس سے بھی مبینہ غیر حاضری، ضلعی پولیس خاموش، سیاسی دباؤ کے تحت معاملہ دبانے کی کوشش؟

    بہاولنگر:اینٹی کرپشن سے نکالے جانے والے اہلکار کی پولیس سے بھی مبینہ غیر حاضری، ضلعی پولیس خاموش، سیاسی دباؤ کے تحت معاملہ دبانے کی کوشش؟

    بہاولنگر(نمائندہ خصوصی) محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب سے بدعنوانی اور قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات پر نکالے گئے پولیس اہلکار محمد اسلم کے حوالے سے ایک نیا تنازع سامنے آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن سے واپس ضلع پولیس بہاولنگر بھیجے جانے کے باوجود مذکورہ اہلکار نے اپنے اصل محکمے میں رپورٹ نہیں کیا اور مبینہ طور پر مسلسل غیر حاضر ہے، تاہم ضلعی پولیس اس صورتحال پر تاحال واضح مؤقف دینے سے گریزاں ہے، جس سے مبینہ سرپرستی اور سیاسی دباؤ کے تحت معاملہ دبانے کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ضلع پولیس بہاول نگر کے کانسٹیبل محمد اسلم کو 11 ستمبر 2015 کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب سے باضابطہ طور پر برطرف کیا گیا تھا۔ اس وقت جاری ہونے والے سرکاری حکم نامے میں واضح کیا گیا تھا کہ مذکورہ اہلکار فوری طور پر اپنے پیرنٹ ڈیپارٹمنٹ یعنی ضلع پولیس بہاولنگر میں رپورٹ کرے گا جبکہ آئندہ اینٹی کرپشن میں کسی بھی تعیناتی کے لیے نااہل تصور ہوگا۔

    اس کے باوجود ذرائع کا دعویٰ ہے کہ محمد اسلم کو 2021 میں دوبارہ اینٹی کرپشن میں تعینات کر دیا گیا، جس پر پہلے ہی محکمانہ شفافیت اور اثر و رسوخ کے استعمال کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے تھے۔ بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب کے احکامات کے تحت اسے دوبارہ اینٹی کرپشن سے واپس ضلع پولیس بہاول نگر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق سرکل انچارج اینٹی کرپشن بہاول نگر محمد اکرم زکی نے 9 مارچ 2026 کو باضابطہ طور پر محمد اسلم کو ضلع پولیس بہاولنگر واپس روانہ کر دیا تھا، تاہم حیران کن طور پر مذکورہ اہلکار نے اب تک ضلع پولیس میں رپورٹ نہیں کیا اور مبینہ طور پر مسلسل غیر حاضر ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال مزید مشکوک اس وقت ہوئی جب ضلعی پولیس بہاول نگر نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر لی اور یہ واضح نہیں کیا جا رہا کہ محمد اسلم اس وقت کہاں تعینات ہے، اس کی حاضری کس ریکارڈ میں ظاہر ہو رہی ہے اور اس کے خلاف غیر حاضری پر کیا کارروائی کی گئی ہے۔

    اندرونی ذرائع کے مطابق:

    کانسٹیبل محمد اسلم مبینہ طور پر سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اپنے خلاف محکمانہ کارروائی رکوانے اور دوبارہ کسی حساس عہدے پر تعیناتی کی کوششوں میں مصروف ہے، جبکہ ضلعی پولیس کی خاموشی بھی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

    ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ محمد اسلم کا نام بہاول نگر کے ایک متنازع “ایجوکیشن کرپشن کیس” میں بھی سامنے آ چکا ہے، جہاں اس پر الزام ہے کہ اس نے بعض سرکاری افسران اور ملازمین کو کیسوں میں نامزد کروا کر مبینہ طور پر مالی فوائد حاصل کیے۔ یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ وہ خود کو اینٹی کرپشن کا ڈپٹی ڈائریکٹر ظاہر کر کے مختلف افسران کو فون کرتا تھا، حالانکہ وہ محض ریڈر کے طور پر کام کر رہا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے محمد اسلم کے خلاف “بین لیٹر” بھی جاری کیا جا چکا ہے، تاہم اس کے باوجود اس کے خلاف مؤثر محکمانہ کارروائی نہ ہونا اور ضلعی پولیس کی جانب سے وضاحت نہ دینا پورے معاملے کو مزید مشکوک بنا رہا ہے۔

    عوامی حلقوں نے چیف سیکرٹری پنجاب، آئی جی پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف انکوائری کر کے یہ واضح کیا جائے کہ ایک بلیک لسٹ اور مبینہ غیر حاضر اہلکار کو آخر کس کی سرپرستی حاصل ہے اور اس کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔

  • تھانہ بی ڈویژن چشتیاں کےاے ایس آئی کا شہری پر مبینہ تشدد، ورثاء کاانصاف کا مطالبہ

    تھانہ بی ڈویژن چشتیاں کےاے ایس آئی کا شہری پر مبینہ تشدد، ورثاء کاانصاف کا مطالبہ

    چشتیاں: تھانہ بی ڈویژن چشتیاں کی حدود میں ایک شہری کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے نے شہری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ متاثرہ خاندان نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لے کر غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق راشد منہاس اے ایس آئی نے دربار بابا تاج الدین سرکار کے قریب سے محمد اسلم ولد قطب دین سکنہ چک نمبر 42 فتح کو حراست میں لے کر تھانہ بی ڈویژن منتقل کیا، جہاں مبینہ طور پر اس پر تشدد کیا گیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ تشدد کے نتیجے میں متاثرہ شخص کا ایک دانت ٹوٹ گیا جبکہ جسم پر بھی تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔

    اطلاعات کے مطابق متاثرہ شخص کی طبیعت بگڑنے پر اسے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ورثاء کا الزام ہے کہ اس دوران انہیں بلا کر مبینہ طور پر زبردستی صاف کاغذات پر انگوٹھے لگوائے گئے، جبکہ بعد ازاں متاثرہ شخص کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    محمد اسلم ولد قطب دین اور ان کے بڑے بھائی نے اپنے ویڈیو بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ اے ایس آئی راشد نے نہ صرف ان سے مبینہ طور پر رشوت طلب کی بلکہ محمد اسلم کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ محمد اسلم شوگر کا مریض ہے اور تشدد کے باعث اس کی حالت غیر ہوگئی، جس پر اسے ریسکیو اہلکاروں کے ذریعے فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا پڑا۔

    اے ایس آئی راشد نے نہ صرف ان سے مبینہ طور پر رشوت طلب کی بلکہ محمد اسلم کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

    اہل علاقہ اور ورثاء نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر محمد اسلم کسی مقدمے میں مطلوب تھا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی اور باقاعدہ مقدمہ درج کیوں نہیں کیا گیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ مبینہ طور پر بعض پولیس اہلکاروں نے معاملہ دبانے کی کوشش کی اور بعد ازاں متاثرہ شخص کو چھوڑ دیا گیا۔

    شہریوں اور متاثرہ خاندان نے وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، آرپی او بہاولپور اور ڈی پی او بہاولنگر سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے شہریوں پر مبینہ تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

    انہوں نے زور دیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کا پولیس کے نظام پر اعتماد دوبارہ بحال ہو سکے۔

  • چشتیاں پولیس پر شہریوں کو نجی ٹارچر سیل میں تشدد کا الزام

    چشتیاں پولیس پر شہریوں کو نجی ٹارچر سیل میں تشدد کا الزام

    چشتیاں: چشتیاں تھانہ سٹی بی ڈویژن کے مبینہ نجی ٹارچر سیل میں شہریوں پر بدترین تشدد کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد شہری حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی فوٹیج میں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کو بے گناہ شہریوں پر تشدد کرتے ہوئے واضح دیکھا جا سکتا ہے، جس پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور مقامی شہریوں نے سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔مقامی صحافیوں کے مطابق ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس کے رویے اور مبینہ غیر قانونی نجی ٹارچر سیل نے پولیس اور نظام انصاف پر کئی سوالات کھڑے کردئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی قانون کی خلاف ورزی کرتے ھوئے مقامی طاقتور افراد کی ایما پر شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنائیں گے تو عوام انصاف کے لیے کہاں جائیں گے۔مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ بھی حالیہ دنوں میں ھونے والے دیگر واقعات کا تسلسل ھے جس میں مقامی قبضہ مافیا کے ملوث ہونے کا عندیہ دیا جا رہا ھے اور مقامی پولیس اس طاقتور قبضہ مافیا کی پشت پناہی بھی کرتی نظر آتی ھے۔

    سماجی و شہری حلقوں نےآئی جی پنجاب راو عبدالکریم، آر پی او بہاولپور غازی صلاح الدین اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولنگر محمد عمران سے فوری نوٹس لینے اور واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف شفاف تحقیقات کے بعد سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف پولیس کے وقار کو مجروح کرتے ہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

    دوسری جانب پولیس حکام کی جانب سے تاحال اس وائرل ویڈیو پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

  • عیدالاضحیٰ پر فول پروف سکیورٹی اور ترقیاتی منصوبے جلد مکمل کرنے کی ہدایت، ڈپٹی کمشنر بہاولنگر کا دورہ چشتیاں

    عیدالاضحیٰ پر فول پروف سکیورٹی اور ترقیاتی منصوبے جلد مکمل کرنے کی ہدایت، ڈپٹی کمشنر بہاولنگر کا دورہ چشتیاں

    چشتیاں: ڈپٹی کمشنربہاولنگرذوالفقاراحمد و ڈی پی او محمد عمران نے کہا ہے کہ عید الاضحی کے موقع پرامن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ادارے مکمل طور پرمتحرک رہیں گےاورحساس مقامات پر پولیس نفری بڑھا دی گئی ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے سکیورٹی اورانتظامی امورکا جائزہ لینے کے لیے ڈی سی آفس کے کنٹرول روم کا دورہ کے موقع پر میڈیا کو بتایا کہ عیدالاضحیٰ کے دوران ضلع کے تمام شہروں میں صفائی، سکیورٹی، ٹریفک اوردیگرانتظامات کو مؤثر بنانے کی ہدایات جاری کردی ہیں تاکہ شہریوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او نے کنٹرول روم میں نصب مانیٹرنگ سسٹم، سی سی ٹی وی کیمروں، ایمرجنسی رسپانس اور شکایات کے اندراج کے نظام کا جائزہ لیا۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنرذلفقاراحمد نے چشتیاں کے دورہ کے موقع پرمختلف ترقیاتی منصوبوں لاری اڈا، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، بازاروں کی بیوٹی فکیشن منصوبہ اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کرکے کاموں کے معیاراوررفتار کا جائزہ لیا۔اس موقع پر متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ وقت میں مکمل کیے جائیں اور تعمیراتی کاموں میں معیاری میٹریل کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔جنرل بس اسٹینڈ چشتیاں کے دورہ کے موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ لاری اڈہ پر مسافروں کو تمام بنیادی سہولتی فراہم کی جائیں اور عوام کو بہترسفری سہولیات اور جدید انفراسٹرکچر کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔

  • پروفیسر صغیر تبسم کو “وارث شاہ قومی ادبی ایوارڈ” ملنا ضلع بہاولنگر کیلئے باعث افتخار ہے :ڈاکٹررفاقت علی باجوہ

    پروفیسر صغیر تبسم کو “وارث شاہ قومی ادبی ایوارڈ” ملنا ضلع بہاولنگر کیلئے باعث افتخار ہے :ڈاکٹررفاقت علی باجوہ

    چشتیاں: ڈائریکٹراسلامیہ یونیورسٹی بہاولنگر کیمپس ڈاکٹررفاقت علی باجوہ نے کہا ہے کہ ضلع بہاول نگرکےعالمی شہرت یافتہ پنجابی شاعرپروفیسر صغیر تبسم اپنی شہرہ آفاق کتاب اردو بولن والئے کڑئے میں ہزاروں سال پرانی پنجابی تہذیبی روایت کو ایک طویل نظم میں محفوظ بنانے کا کارنامہ سرانجام دیا ہے اوراس پنجابی نظم کو پنجابی زبان کی پانچ ہزارسالہ تہذیبی داستان کی بنا پرکبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا جبکہ پروفیسرصغیر تبسم کو اکادمی ادبیات کی جانب سے”وارث شاہ قومی ادبی ایوارڈ” کا ملنا بلاشبہ پورے ضلعے کے لیے باعث افتخار ہے۔انہوں نے اسلامیہ یونی ورسٹی بہاول نگر کیمپس کے نیو سیمینار ہال میں پروفیسر صغیر تبسم کے اعزاز میں منعقدہ تہنیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ پروفیسر صغیر تبسم ملک کے وہ شاعر ہیں جن کے کلام کی گونج پاکستان کے پنجاب کے علاوہ انڈین پنجاب میں بھی گونج رہی ہے۔ انھوں نے پنجابی لوک گیت ، آزاد نظم اورغزل کے ذریعےپنجابی ادب کی گرانقدرخدمات انجام دینے کا فریضہ انجام دیا ہے اوراُن کی شہرہ آفاق نظم ”اردو بولن والیے کڑیے، توں کی جانے“ اپنے کرافٹ، موضوع اور صنف کے حوالےسے انتہائی منفرد مانی جاتی ہے جو اب کتابی شکل میں بھی شائع ہو گئی ہے۔ پروفیسرصغیر تبسم کی اِسی کتاب پر انھیں ”وارث شاہ قومی ادبی ایوارڈ “ سے نوازا گیا۔ تقریب میں ضلع بھر سے بڑی تعداد میں اہلِ فن اور اہلِ فکر و دانش نے شرکت کی۔ تقریب میں ایڈیشنل ڈائریکٹر وقاص بن طارق ، ڈاکٹر اسرار احمد، جناب پروفیسر احمد خان، ڈاکٹر خاور وحید،فاروق ندیم اور ڈاکٹر ناصر کاظمی شامل تھے۔ فاروق ندیم اور پروفیسر احمد خان نے صغیر تبسم کے فن کو سراہا اور اُن کی نگارشات کے مختلف امکانات اور فکری گوشوں کو زیرِ بحث لائے۔ شعبہ اردو و اقبالیات کے زیرِ اہتمام منعقدہ اِس سیمینار کے آخر میں ڈائریکٹرکیمپس نے پروفیسرصغیرتبسم کو اُن کی اِس کامیابی پرایک یادگاری شیلڈ پیش کی اورجملہ مہمانوں کی تشریف آوری پر اُن کا شکریہ ادا کی ۔

  • چشتیاں میں نوجوان صحافی پر مبینہ تشدد اور اغوا، قبضہ مافیا، بااثر سیاستدان اور پولیس گٹھ جوڑ پر سنگین سوالات

    چشتیاں میں نوجوان صحافی پر مبینہ تشدد اور اغوا، قبضہ مافیا، بااثر سیاستدان اور پولیس گٹھ جوڑ پر سنگین سوالات

    چشتیاں: چشتیاں میں نوجوان صحافی ممتاز انجم ہاشمی کو مبینہ طور پر مقامی سیاستدان کے ایما پر تشدد کا نشانہ بنا کر نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کے واقعے نے صحافتی حلقوں، سول سوسائٹی اور شہریوں میں شدید خوف و غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ واقعے نے ایک بار پھر اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ بااثر سیاسی شخصیات، قبضہ مافیا اور بعض پولیس اہلکاروں کے گٹھ جوڑ کے باعث نہ صرف عام شہری بلکہ صحافی بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق نوجوان صحافی ممتاز انجم ہاشمی اپنے ایک قریبی دوست سے ملاقات کیلئے پرانی چشتیاں گئے ہوئے تھے کہ اسی دوران مبینہ طور پر ایک مقامی سیاستدان کے بھائی سے وابستہ غنڈہ عناصر نے ان کا تعاقب کیا، انہیں روک کر تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق اس واقعے کی بنیادی وجہ گزشتہ دنوں ممتاز انجم ہاشمی کی جانب سے شائع کی جانے والی وہ خبریں تھیں جن میں مبینہ قبضہ گروپ کی سرگرمیوں، زمینوں پر غیر قانونی قبضوں اور جعلسازی کے ذریعے شہریوں کی جائیدادیں ہتھیانے جیسے معاملات کو بے نقاب کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس قبضہ گروپ کی پشت پناہی ایک مقامی بااثر سیاستدان کا بھائی کر رہا تھا، اور انہی خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد صحافی کو مسلسل دباؤ، دھمکیوں اور سنگین نتائج کی وارننگز دی جا رہی تھیں۔

    ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ ممتاز انجم ہاشمی نے چند روز قبل اپنی جان کو لاحق خطرات کا ذکر مقامی واٹس ایپ گروپ “صدائے چشتیاں” میں بھی کیا تھا، جہاں انہوں نے واضح طور پر ان افراد اور عناصر کی نشاندہی کی تھی جن سے انہیں اپنی جان کا خطرہ تھا۔ اس کے باوجود مقامی انتظامیہ اور پولیس نے کسی قسم کی حفاظتی یا قانونی کارروائی کرنا ضروری نہ سمجھی۔

    واقعے میں ایک نہایت تشویشناک پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ تھانہ بی ڈویژن چشتیاں کے ایس ایچ او کا نام بھی مبینہ طور پر اس تشدد اور غیر قانونی کارروائی میں لیا جا رہا ہے۔ مقامی صحافیوں اور شہری حلقوں کا الزام ہے کہ مذکورہ ایس ایچ او نہ صرف قبضہ مافیا اور سیاسی شخصیات کے قریب سمجھے جاتے ہیں بلکہ ان پر ماضی میں بھی شہریوں اور صحافیوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے، دباؤ ڈالنے اور مبینہ “نجی ٹارچر سیل” چلانے جیسے سنگین الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔

    صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس خود جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کرے گی تو شہری انصاف کیلئے کہاں جائیں گے؟ چشتیاں میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ قبضہ مافیا اور بااثر سیاسی خاندان قانون سے بالاتر ہو چکے ہیں جبکہ سچ بولنے والے صحافیوں کو خاموش کرانے کیلئے تشدد، دھمکیوں اور اغوا جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

    شہریوں اور صحافتی تنظیموں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، انسانی حقوق کمیشن اور اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ممتاز انجم ہاشمی کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اس میں ملوث بااثر سیاسی شخصیات، قبضہ مافیا اور پولیس افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ آزادی صحافت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • چشتیاں: وراثتی پلاٹ پر مبینہ قبضہ، ریٹائرڈ پولیس افسر کا سیاسی شخصیت کے بھائی پر الزام

    چشتیاں: وراثتی پلاٹ پر مبینہ قبضہ، ریٹائرڈ پولیس افسر کا سیاسی شخصیت کے بھائی پر الزام

    چشتیاں: تحصیل چشتیاں کے رہائشی ریٹائرڈ پولیس سب انسپکٹر محمد اسلم نے الزام عائد کیا ہے کہ ضلع بہاولنگر سے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی کے بھائی امان الحق باجوہ نے ان کے وراثتی رہائشی پلاٹ پر مبینہ طور پر جعلی رجسٹری کے ذریعے قبضہ کر لیا ہے۔

    محمد اسلم نے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ مذکورہ پلاٹ انہیں اپنے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملا، تاہم ملزمان نے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے مقامی ریونیو عملے سے مبینہ ملی بھگت کے ذریعے نہ صرف اپنے حصے سے زائد زمین اپنے نام کروالی بلکہ باقی حصے پر بھی قبضہ جما لیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر قائم ڈسٹرکٹ ریزولیوشن کمیٹی بہاولنگر سے رجوع کیا، جہاں مبینہ طور پر تحقیقات کے بعد ان کے مؤقف کی تصدیق کی گئی۔ تاہم اس کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔

    محمد اسلم نے مزید الزام لگایا کہ انہیں مبینہ طور پر دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں کہ وہ اس معاملے کو مزید نہ اٹھائیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے اور انصاف یقینی بنایا جائے۔

    حالیہ دیگر مبینہ قبضہ کیسز سے بھی اسی گروپ کا نام جوڑا جا رہا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

    دوسری جانب نمائندہ مقامی حکومت کی جانب سے امان الحق باجوہ کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم خبر فائل ہونے تک ان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    مقامی ذرائع کے مطابق شہر میں حالیہ دیگر مبینہ قبضہ کیسز سے بھی اسی گروپ کا نام جوڑا جا رہا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

    شہری حلقوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے تاکہ سرکاری و نجی املاک کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • چشتیاں: میونسپل کمیٹی پلازہ میں مبینہ غیرقانونی تعمیرات، شہریوں کا احتجاج

    چشتیاں: میونسپل کمیٹی پلازہ میں مبینہ غیرقانونی تعمیرات، شہریوں کا احتجاج

    چشتیاں کے مصروف علاقے کالج روڈ پر واقع میونسپل کمیٹی (ایم سی) پلازہ میں 35 سال سے قائم لیٹرین اور سیڑھیوں کو منہدم کر کے دکان کی تعمیر کا انکشاف ہوا ہے، جس پر شہریوں اور دکانداروں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق ایم سی پلازہ 1990 میں بلدیہ چشتیاں نے سرکاری قرض کے ذریعے تعمیر کیا تھا، جس میں دکانداروں اور عوام کی سہولت کے لیے لیٹرین اور چھت تک رسائی کے لیے سیڑھیاں نقشے کے مطابق بنائی گئی تھیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں ان سہولیات کو توڑ کر مبینہ طور پر ایک بااثر شخص کی جانب سے دکان کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شہریوں نے اس معاملے کی اطلاع ایڈمنسٹریٹر، چیف آفیسر اور متعلقہ رینٹ کلرک کو فون کے ذریعے دی، مگر تاحال کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔ مقامی افراد کا الزام ہے کہ بااثر عناصر کے باعث بلدیہ حکام اس معاملے میں بے بس نظر آتے ہیں، جبکہ بعض افسران کی مبینہ شمولیت کی بھی باتیں کی جا رہی ہیں۔شہریوں اور دکانداروں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر بہاول نگر سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پلازہ کو اس کی اصل حالت میں بحال کیا جائے تاکہ دکاندار اور عوام پہلے کی طرح سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔

  • شجرکاری ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کے لیے نہایت اہم ہے: ذوالفقار احمد بھون ڈپٹی کمشنر بہاولنگر

    شجرکاری ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کے لیے نہایت اہم ہے: ذوالفقار احمد بھون ڈپٹی کمشنر بہاولنگر

    چشتیاں (نمائندہ مقامی حکومت) ڈپٹی کمشنر ذوالفقار احمد نے کہا ہے کہ شجر کاری نہ صرف انسانی صحت اور ماحول کی بہتری کیلئے ناگزیر ہے بلکہ یہ آنے والی نسل کو خوشگوارفضا اور صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔انہوں نے سنٹرل پارک چشتیاں کے د ورہ کے موقع پر افسران و شہریو ں سے بات چیت کے دوران مزید کہا کہ شجرکاری ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کے لیے نہایت اہم ہے، لہٰذا ہر شہری کو اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔انہوں نے پارک کا دورہ کیا جہاں صفائی، سکیورٹی اور عوامی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا اور پارک میں آنے والے شہریوں کے لیے مزید بہتر سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔قبل ازیں ڈپٹی کمشنرنے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال چشتیاں کا معائنہ کیا اور وہاں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور صفائی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے مختلف سرکاری سکولوں کا بھی دورہ کیا اور تعلیمی معیار، اساتذہ کی حاضری اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔ستھرا پنجاب” مہم کے تحت ڈپٹی کمشنر نے دیہی علاقوں (رورل ایریاز) کا بھی دورہ کیا اور صفائی ستھرائی کی صورتحال کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ صفائی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور عوام کو صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر ذوالفقاراحمدنے مختلف شاہراہوں کے کنارے پودے لگا کر شجرکاری مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں، متعلقہ محکموں کے افسران اور پنجاب پولیس کی ٹیم بھی ان کے ہمراہ موجود تھی

  • چشتیاں میں سیوریج نظام کی ناکامی، عید کے روز مکینوں کا احتجاج

    چشتیاں میں سیوریج نظام کی ناکامی، عید کے روز مکینوں کا احتجاج

    چشتیاں (نمائندہ مقامی حکومت) تحصیل چشتیاں کے علاقے بھٹہ کالونی میں ناقص سیوریج نظام کے خلاف علاقہ مکینوں نے عید الفطر کے روز احتجاج کیا۔ کئی روز سے گلیوں میں گندا پانی جمع ہونے کے باعث شدید بدبو اور تعفن پھیل گیا ہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    مقامی افراد کے مطابق سیوریج کا پانی گھروں کے باہر کھڑا رہنے سے نہ صرف آمدورفت متاثر ہو رہی ہے بلکہ نماز اور دیگر روزمرہ معمولات کی ادائیگی بھی مشکل ہو گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار بلدیہ حکام کو شکایات درج کروائیں، تاہم کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

    عید جیسے اہم مذہبی موقع پر بھی صفائی اور نکاسی آب کے ناقص انتظامات کے باعث صورتحال جوں کی توں رہی جس پر مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے حکام کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور علاقے میں صفائی کے مؤثر انتظامات کیے جائیں۔

    مظاہرین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی کہ چشتیاں اور اس کے نواحی علاقوں میں صفائی اور سیوریج کے مسائل کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور دیانتدار و فرض شناس افسران تعینات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔